راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ ’محض بیوقوفی‘ ہو گی کیونکہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو دونوں ممالک کے لیے ’باہمی تباہی‘ کا باعث بن سکتا ہے، اسی لیے یہ (جوہری جنگ) ’ناقابل تصور اور نامعقول خیال‘ ہونا چاہیے۔
بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اگر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو پاکستان ہر وقت اس کے لیے تیار ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ سے متعلق انہوںنے کہا کہ بھارت جس طرح سے گھمنڈ کا شکار ہے اور جس بیانیے کو فروغ دے رہا ہے تو تنازع تو موجود ہے جس میں ’چنگاری کسی بھی وقت ڈالی جا سکتی ہے۔
اس سوال پر کہ کیا پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایٹمی جنگ کا حقیقی امکان ہے یا یہ اب بھی ایک ڈیٹرنس ہے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت اپنے بیانیے کی وجہ سے آگ سے کھیل رہا ہے ہم ہمیشہ جنگ کے لیے تیار ہیں، اگر جنگ چاہیے تو جنگ سہی،پاکستان اور انڈیا دونوں ایٹمی ریاستیں ہیں، ان کے درمیان فوجی تصادم ایک انتہائی بیوقوفانہ بات ہے۔ یہ ناقابل تصور ہے۔ یہ ایک غیرمعقول خیال ہے۔ لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ کچھ عرصے سے انڈیا ایک ایسی صورتحال بنانے کی کوشش کر رہا ہے جہاں فوجی تصادم کے لیے گنجائش پیدا کی جا سکے۔
انہوں نے کہاکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر چند سال بعد ایک جھوٹا بیانیہ گھڑا جاتا ہے۔ یہ بیانیہ پرانا ہو چکا ہے۔ دنیا بھی اب جان چکی ہے کہ انڈیا کا پہلے دن سے جو موقف تھا، وہ بے بنیاد تھا۔ یہ ہر کچھ عرصے بعد دہرایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔‘
انہوں نےکہاکہ حالیہ دنوں میں جو حالات بنے، اُن میں پاکستان نے ’بہت بالغ نظری سے‘ ردعمل دیا اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکا اور اگر شدت پسندی کے کسی واقعے میں کسی پاکستانی شہری کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں تو ’ہمیں ثبوت دیے جائیں، ہم خود اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہاکہ ہم امن کو ترجیح دیتے ہیں، ہم امن سے محبت کرتے ہیں، ہم اس وقت پاکستان میں امن کا جشن منا رہے ہیں۔ لیکن ہم ہمیشہ جنگ کے لیے تیار رہتے ہیں۔۔۔ اور اگر جنگ چاہیے، تو پھر جنگ ہی سہی۔
اس سوال پر کہ کیا جنگ اب بھی ایک آپشن کے طور پرموجود ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’اصل تنازع اپنی جگہ موجود ہے، اور اس میں چنگاری کسی بھی وقت ڈالی جا سکتی ہے۔ آپ حالات کو دیکھیں، 10 مئی کے بعد کتنے دن گزر چکے ہیں مگر انڈیا میں جو بیانیہ چلایا جا رہا ہے وہ اب بھی جاری ہے۔ انڈیا جس انداز میں بات چیت کر رہا ہے، وہ بنیادی طور پر اپنی داخلی سیاست کو بہتر کرنے کی کوشش لگتی ہے۔ تو کیا آپ کو وہاں کسی ذمہ دار سیاسی قیادت کی جھلک دکھائی دیتی ہے؟ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی ریاست کو ایک دہشتگرد اور ایک دہشتگردی کے واقعے نے یرغمال بنا لیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ بھارت کی حکومت میں ’کوئی بھی پہلگام کے واقعے سے متعلق سخت سوالات نہیں کر رہا۔ کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ اتنا بڑا سکیورٹی لیپس آخر کیسے ہوا؟ کسی کو ان واقعات کے پیچھے موجود وجوہات کو سمجھنے میں دلچسپی نہیں۔ وہ ان آوازوں کو سننے کو تیار نہیں جو ظلم و زیادتی کی بات کر رہی ہیں۔ یہ واقعات اسی ناانصافی کا نتیجہ ہیں جو وہ خود انجام دے رہے ہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دونوں ملکوں کے درمیان بیک چینل رابطوں سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’اس سوال کا جواب وزارت خارجہ دے سکتی ہے‘ اور یہ کہ ’سیاست اور سفارتکاری کے معاملات ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ ہم شراکت دار ضرور ہیں، لیکن وہاں مرکزی کردار ادا کرنے والے نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان نے اس تنازعے کو بہت ذمہ داری سے سنبھالا۔ چھ اور سات مئی کی رات ہم نے دفاع میں بھرپور ردعمل دیا اور ان کے چھ طیارے مار گرائے۔ ہم اس سے زیادہ بھی گرا سکتے تھے، لیکن قیادت بہت ذمہ دار تھی اور بالغ نظری سے فیصلے کر رہی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ان حملوں کے بعد جو نقصان ہوا اس کو کھلے دل سے تسلیم کیا لیکن انڈیا پاکستان کو جواب دینے سے روک نہیں پایا۔ ’کیا ہم رُکے؟ کیا انڈیا پاکستان کو چھ اور سات مئی کی رات کی کارروائی کے جواب سے روک سکا؟ نہیں۔ کیونکہ صرف وہی لوگ رُکتے ہیں جنھیں روکا جا سکتا ہے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے نو اور دس مئی کی درمیانی رات بھارت اور مقبوضہکشمیر میں ان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کہا کہ ’پاکستان نے اس رات نپا تلا، مربوط اور متناسب جواب دیا یہ ایک محدود سطح پر ہماری روایتی فوجی طاقت کا استعمال تھا۔ یہ ہماری تکنیکی صلاحیت کا ایک چھوٹا لیکن نہایت مؤثر مظاہرہ تھا۔ اور اس کے بعد آپ نے دیکھا کہ بھارت نے پیچھے ہٹنا شروع کیا۔ اچانک وہ بات چیت کی بات کرنے لگے اور کشیدگی کم کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے لگے۔‘
اس سوال پر کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر سے متعلق بات چیت کس نے اور کب شروع کی؟ پاکستانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ چھ اور سات مئی کی رات حملوں کے بعد ’بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز نے ہم سے رابطہ کیا اور بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا۔ ہم نے واضح کر دیا کہ ہم صرف اسی وقت بات کریں گے جب اپنا جواب دے چکے ہوں گے۔ ہمارا جواب دس مئی کی صبح آیا۔ اس کے بعد آپ نے دیکھا کہ ان کا فوجی ترجمان انڈین ٹی وی چینلز پر آ کر آن ریکارڈ کہتا ہے کہ وہ جنگ کو مزید بڑھانا نہیں چاہتے بشرطیکہ پاکستان مزید حملے نہ کرے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ ہم ایک امن پسند قوم ہیں۔ ہم ہی تھے جو کشیدگی کو قابو میں رکھے ہوئے تھے۔ ان کی جانب سے درخواست موجود تھی اور بین الاقوامی ثالث بھی اس عمل میں شریک تھے۔ صدر ٹرمپ کی قیادت کو کریڈٹ دینا چاہیے اور یہ قابلِ تعریف ہے۔ جو بیرونی قوتیں ملوث تھیں، ان کی بھی یہی خواہش تھی، اورانڈین فریق نے بھی عوامی سطح پر کہا کہ وہ مزید کشیدگی نہیں چاہتے۔ تو ہم نے کہا: کیوں نہیں؟‘
جب ڈی جی آئی ایس پی آر سے پوچھا گیاکہ کیا پاکستان کو بھارتی حملے کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی؟ توانھوں نے  کہا کہ ’یہ بھارتیمیڈیا کی طرف سے چلایا جانے والا ایک مزاحیہ بیانیہ ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ جہاں تک پاکستان کی مسلح افواج کا تعلق ہے، ہم اپنی انٹیلی جنس کے لیے بھارتی ذرائع پر انحصار نہیں کرتے۔ ہم میڈیا کو پہلے ہی دکھا چکے ہیں کہ جب بھی ان کا کراس سیکشن ریڈار ڈرون داخل ہوتا ہے، ہمیں فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کہاں سے آ رہا ہے۔  بھارت میں حد سے زیادہ خوداعتمادی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک کمزور ملک ہے اور وہ ہمارے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اس تکبر کو ہم نے اس تنازعے کے دوران کئی سطحوں پر توڑا ہے۔ تو جب وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے پہلے سے ہمیں اطلاع دی تھی، تو ہمارا کہنا ہے کہ ہمیں آپ کی طرف سے کسی اطلاع کی ضرورت نہیں۔ ہمیں معلوم ہے آپ کس قسم کے حریف ہیں اور آپ کی صلاحیتیں کیا ہیں۔ بطور فوجی میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ہم انھیں بہت ہی غور سے دیکھتے ہیں۔ وہ کیا کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں؟ ہم ہمیشہ چوکنا اور تیار رہتے ہیں۔‘
اس سوال پر کہ بھارتی فوج کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے بہاولپور میں مبینہ طور پر جیش محمد کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ انڈیا کا پرانا بیانیہ ہے جو بار بار دہرایا جا رہا ہے انھوں نے بہاولپور، مریدکے اور مظفرآباد میں جن جگہوں کو نشانہ بنایا، وہ تمام مساجد تھیں۔ میڈیا کو اگلے دن ان جگہوں پر لے جایا گیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ رات کو وہاں دہشتگرد اور ان کے کیمپس موجود ہوں، اور چند گھنٹوں میں، سینکڑوں لوگوں کے بیچ، تمام نشانات مٹا دیے جائیں؟ ان کے پاس ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے نہ کوئی ثبوت ہے، نہ کوئی منطق۔۔۔ حکومت پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو لے آئیں، ہم تحقیقات کریں گے۔ لیکن وہ اس پر بھی آمادہ نہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر سے اس تصویر سے متعلق سوال بھی کیا گیاجو بھارت کے برطانیہ میں ہائی کمشنر نے میڈیا کو دکھاتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ کالعدم جیش محمد سے تعلق رکھنے والے افراد کی نماز جنازہ کے دوران پاکستانی فوج کے سینیئر افسران بھی موجود تھے۔  اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’جہاں تک نمازِ جنازہ کا تعلق ہے، چاہے وہ بہاولپور میں ہوئی ہو، مریدکے میں، یا مظفرآباد میں، حالیہ دنوں میں یا پہلے، جو لوگ مارے گئے وہ ہماری قوم کے بچے تھے۔ میرے پاس ان تمام لوگوں کی تصویریں موجود ہیں جو میں آپ کو دکھا سکتا ہوں۔ ان بچوں کو دیکھیں، ان کے چہرے دیکھیں۔ کیا پاکستان کی فوج ان کے جنازوں میں شریک نہیں ہو گی؟ کیا پاکستانی انتظامیہ وہاں نہیں جائے گی؟‘
تاہم اس سوال پر کہ جیشِ محمد ایک ایسی تنظیم ہے جسے بین الاقوامی طور پر دہشتگرد تنظیم تسلیم کیا گیا ہے۔ اگر اس تنظیم سے منسلک افراد کے اہلخانہ کے جنازوں میں فوجی افسران شریک ہوتے ہیں، تو کیا اسے منفی پیرائے میں نہیں دیکھا جائے گا؟  ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ہم نے کب سے انڈیا کی خوشنودی کے لیے فیصلے کرنا شروع کر دیے؟ کہ انڈیا جو کہے، ہم وہی کرنا شروع کر دیں؟ ہم ایسا نہیں کرتے۔ بھارت میں آج تک اور نہ آئندہ کوئی یہ طے کر سکتا ہے کہ ہم انڈیا کو خوش کرنے کے لیے فیصلے کریں گے۔ ہم اپنے شہدا کو عزت دیتے ہیں۔ یہ فوج، یہ حکومت، یہ ریاست صرف پاکستان کے عوام کی مقروض ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ بھارت پاکستان میں کسی بھی جگہ بم گرائے اور پھر یہ دعوی کرے کہ وہاں جیش محمد کے لوگ تھے۔ ’ہمیں کوئی ثبوت دیں جو جیشِ محمد کی شمولیت کو ثابت کرے۔ وہ ثبوت لائیں۔ ثابت کریں کہ بہاولپور میں دہشتگردوں کا کوئی تربیتی کیمپ موجود ہے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ہم دہشتگردی سے نفرت کرتے ہیں۔ ہماری نظر میں دہشتگردوں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے، نہ عقیدہ، نہ انسانیت سے کوئی تعلق۔ وہ انسانیت سے باہر ہوتے ہیں۔ دہشتگرد بس دہشتگرد ہوتا ہے۔ اگر کوئی بھی شخص کسی پاکستانی شہری کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کا ثبوت دیتا ہے، تو ہم خود کارروائی کریں گے۔‘

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر نے کہا کہ اس سوال پر کہ کہا کہ بھارت کیا پاکستان کہ پاکستان پاکستان نے کے درمیان موجود ہے انھوں نے رہے ہیں اگر جنگ بات چیت کریں گے بھارت ا کے لیے رہا ہے کے بعد اور ان ہیں کہ مئی کی

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا