مانسہرہ: لڑکی سے زیادتی کا ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
علامتی تصویر۔
مانسہرہ کے علاقے مانگل میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی مقامی سنار کے پاس سونا فروحت کرنے آئی تھی۔ لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان نے رقم اور طلائی زیورات بھی چھین لیے۔
پولیس کے مطابق میڈیکل میں لڑکی سے زیادتی ثابت ہوگئی، ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
.ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی سے مبینہ اغوا ہونے والی کالج طالبہ گھر آگئی، معاملہ مزید گھمبیر
شہر قائد کے علاقے جوہر آباد تھانے کی حدود سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی فرسٹ ائیر کی طالبہ کے کیس کا ڈراپ سین ہوگیا۔ طالبہ کو اسکا منگیتر حیدر آباد سے لیکر واپس گھر پہنچ گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق 19 مئی کو امتحان دینے کیلیے کالج جانے والی لڑکی گھر واپس نہیں پہنچی اور بھائی کے پاس اُس کا ایک وائس نوٹ آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہم چار لڑکیوں کو کچھ لڑکے اغوا کررہے ہیں۔
پولیس نے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی اور لڑکی کا سراغ لگایا تو متاثرہ طالبہ فضا دختر سلیم اپنے منگیتر کے ہمراہ کراچی پہنچ گئی جس کے بعد معاملہ مزید الجھ گیا۔
پولیس حکام کے مطابق واقعہ اغوا ہی تھا یا لڑکی نے ڈرامہ رچایا ؟ پولیس اس حوالے سے تفتیش کررہی ہے۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ فضا دختر سلیم کو منگیتر خود حیدرآباد سے کراچی لے کر آیا ہے۔
لڑکی کو کراچی لانے کے کافی دیر بعد پولیس کو اطلاع دی گئی جبکہ تمام معاملے سے پولیس کو لاعلم رکھا گیا۔
پولیس کے مطابق فرسٹ ایئر کی طالبہ کے اغوا کا مقدمہ بھائی نے جوہر آباد تھانے میں 19مئی کو درج کرایا گیا تھا ۔ لڑکی نے اغوا ہونے کے بعد گھر والوں کو میسج کیا کہ اسے نامعلوم افراد اغوا کیا۔
لڑکی کے اہل خانہ کو بھیجے گئے پیغام کے مطابق اسکو ہائی روف میں موجود لوگوں نے اغوا کیا جس میں مزید لڑکیاں بھی موجود تھیں۔
پولیس کے مطابق اہل خانہ نے پولیس کو بتایا کہ لڑکی نے بھائی سے رابطہ نہ ہونے کی صورت میں اپنے منگیتر سے رابطہ کیا اور حیدرآباد میں موجودگی کا بتایا ۔ متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ سے رابطے کے بعد پولیس جب لڑکی کی بازیابی کے لیے حیدرآباد جانے لگے تو معلوم ہوا کہ وہ کراچی پہنچ چکی ہے۔
مبینہ طور پر اغوا ہونے والی لڑکی نے حیدراباد سے اپنے منگیتر کو فون رکشہ ڈرائیور کے نمبر سے کیا اور بتایا کہ میں اس مقام پر موجود ہوں۔
کراچی سے اغوا ہونے والی طالبہ حیدراباد میں کسی تھانے نہیں گئی بلکہ منگیتر ہی کے ساتھ واپس اپنے گھر آ گئی۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اس حوالے سے تمام پہلووں پر تفتیش کررہی ہے ۔تحقیقات میں لڑکی کے بیانات میں متعدد تضادات پائے گئے ہیں، جس کے باعث پولیس کو شک ہے کہ آیا یہ واقعی اغوا کا واقعہ تھا یا کوئی ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے جسے اغوا کا رنگ دیا گیا۔