پی ایم ٹی چوری کی کوشش کرنے والا ملزم شہری کی فائرنگ سے زخمی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
کراچی:
کیماڑی جنگل شاہ یارڈ میں پی ایم ٹی چوری کرنے کی کوشش کرنے والے ایک ملزم کو یارڈ کے منیجر نے جوابی فائرنگ میں زخمی کردیا۔
تفصیلات کے مطابق جیکسن کے علاقے کیماڑی ضیاء الدین اسپتال کے قریب جنگل شاہ یارڈ میں چوری کرنے والے ایک ملزم کو یارڈ کے منیجر نے جوابی فائرنگ میں زخمی کر دیا جبکہ اس کے تین ساتھی موقع سے فرار ہوگئے۔
زخمی ہونے والے ملزم کو جیکسن پولیس نے موقع پر پہنچ کر حراست میں لیکر ایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کیا، پولیس کے مطابق 4 مسلح ملزمان ایم ڈی یارڈ میں پی ایم ٹی چوری کر رہے تھے، ملزمان نے پی ایم ٹی اتار کر پول سے نیچے گرا دی۔
یارڈ منیجر نے ملزمان کو دیکھ کر للکارا تو انہوں نے منیجر پر فاٸرنگ کردی، یارڈ مینیجر نے بھی ملزمان پر جوابی فاٸرنگ کی جس سے ایک ملزم زخمی ہو گیا جبکہ دیگر فرار ہو گٸے۔
زخمی حالت میں گرفتار ملزم سے ایک پستول برامد کیا گیا، گرفتار ملزم کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، فوری طور پر ملزم کی شناخت نہیں کی جا سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایم ٹی
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔