کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس ٹرین کو حادثہ، متعدد مسافر زخمی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
لاہور:
چک جھمرہ کے گاؤں چھوٹی گھرتل کے قریب کچے پھاٹک پر ٹریکٹر ٹرالی کے ڈرائیور کی غفلت کی وجہ سے شالیمار ایکسپریس ٹرین کو حادثہ پیش آیا جس کے باعث متعدد مسافر زخمی ہوگئے۔
شالیمار ٹرین کو حادثہ رات 2 بجے کے قریب پیش آیا، جس کے باعث شالیمار ایکسپریس کی متعدد بوگیاں پٹری سے اتر کر الٹ گئیں۔ حادثے کے باعث فیصل آباد آنے اور جانے والی ٹرینوں کو روک دیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ٹرین آنے سے کچھ دیر قبل ٹریکٹر ٹرالی ریلوے ٹریک میں پھنس گئی تاہم جب ٹریکٹر ٹرالی کے ڈرائیور نے دیکھا کہ ٹرین قریب آگئی ہے تو ڈرائیور نے فوراً ٹریکٹر کی پن نکالی اور ٹریکٹر کو ٹرالی سے الگ کر کے ٹریکٹر لے کر بھاگ گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ٹرین اینٹوں سے بھری ٹرالی سے ٹکرا کر ریلوے لائن سے تقریباً ایک کلومیٹر نیچے اتر گئی، جس کی وجہ سے ٹرین ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور زخمی ہوئے۔
ساہیانوالہ سے سالار وآلہ تک کا ریلوے ٹریک بھی ٹوٹ گیا ہے جس کی وجہ سے فیصل آباد سے لاہور اور وزیر آباد کے لیے تمام ریلوے ٹریفک مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
سی ای او ریلوے عامر بلوچ شالیمار ایکسپریس حادثے کے موقع پر موجود ہیں، ریلوے انتظامیہ کی جانب سے ٹریک کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شالیمار ایکسپریس
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔