عید پر ریلوے کا بڑا اقدام، پانچ اسپیشل ٹرینیں چلانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
وزارت ریلویز نے عیدالفطر کے موقع پر مسافروں کی سہولت کے لیے پانچ خصوصی ٹرینیں چلانے کا اعلان کر دیا۔ ترجمان ریلوے کے مطابق ان اسپیشل ٹرینوں کا مقصد عوام کو بروقت اور معیاری سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پہلی عید اسپیشل ٹرین 2 جون کو دوپہر 1 بجے کراچی سے لاہور کے لیے روانہ ہوگی۔ دوسری اسپیشل ٹرین 3 جون کو صبح 10 بجے کوئٹہ سے پشاور روانہ کی جائے گی۔
تیسری اسپیشل ٹرین 3 جون کو شام 5 بجے لاہور سے کراچی کے لیے چلے گی، جب کہ چوتھی ٹرین اسی روز رات 8 بجے کراچی سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوگی۔
پانچویں اور آخری عید اسپیشل ٹرین 4 جون کو رات 8 بجے کراچی سے لاہور کے لیے روانہ ہوگی۔
ترجمان ریلوے کے مطابق ان اسپیشل ٹرینوں کے ذریعے عید کے موقع پر بڑھنے والے رش کو کنٹرول کرنے اور عوام کو آرام دہ، محفوظ اور بروقت سفری سہولت مہیا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسپیشل ٹرین جون کو کے لیے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔