سانحہ خضدار ؛ دہشتگردی کی یہ بزدلانہ واردات بھارت کے ایجنٹوں کی کارستانی ہے؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
سٹی 42:خضدار میں اسکول وین پر دہشتگرد حملہ، 3 بچے اور 2 جوان شہید، 39 بچے زخمی ہوگئے وزیر اعظم شہباز شریف ہنگامی طور پر کوئٹہ پہنچ گئے ، آرمی چیف اور وفاقی وزراء بھی وزیر اعظم کے ہمراہ کوئٹہ کے ہنگامی دورے پر موجود ہیں ،خضدار حملے کے 8 بچے تشویشناک حالت میں، وزیراعظم نے زخمی بچوں کی عیادت کی
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا دہشتگردی کی یہ بزدلانہ واردات بھارت کے ایجنٹوں کی کارستانی ہے،دشمن کا ہتھیار بننے والے دہشتگرد بلوچ و پشتون عوام کی اقدار پر داغ ہیں،بھارت دہشتگردی کو بطور ریاستی پالیسی استعمال کر رہا ہے، عالمی برادری نوٹس لے،بھارتی چالاکی بے نقاب، خود کو مظلوم ظاہر کر کے اصل مجرم چھپا رہا ہے،پوری قوم افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہے
وفاقی حکومت نے4 افسران کے تقرر و تبادلے کردئیے، نوٹیفکیشن جاری
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ بھارت کے ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ الہندستان دہشتگرد حملے کے ذمہ دار ہیں ،بھارتی پراکسیز بچوں کو نشانہ بنا کر انتہا درجے کی بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،سیکیورٹی ادارے خضدار حملے کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے،
اسحاق ڈار کی چین اور افغان ہم منصب سے ملاقات،سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
دہشتگردی کے خلاف پوری قوم کو ایک بار پھر مضبوط ارادہ دکھانا ہوگا،
وزیراعظم، وزراء اور آرمی چیف نے زخمی بچوں کو دیکھ کر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ،
مودی کے بھونپو ارناب گوسوامی پر پاکستان کے متعلق جھوٹ پھیلانےکا مقدمہ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔