اسرائیل ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری کر رہا ہے ، امریکا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکی ٹی وی نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکا کو حاصل انٹیلی جنس معلومات کے مطابق اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اسرائیلی حملے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر کیا مذاکرات ہوتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل اورامریکا میں موجود اسرائیلی سفارتخانے اور اسرائیلی وزیر اعظم آفس نے اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
اس سے قبل منگل کو ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکا سے جوہری مذاکرات کا کوئی نتیجہ نکلنے کا امکان نہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان یورینیم افزودگی کے معاملے پر تنازع جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے معاہدے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
موٹروے پر خوفناک حادثہ، بس کی ٹکر سے 4 افراد جاں بحق،20 زخمی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔