تہران کا موقف ہے کہ IAEA کے ڈائریکٹر جنرل "رافائل گروسی" کی تنقیدی رپورٹ کی بنیاد پر امریکہ کی حمایت سے تین یورپی ممالک نے گورننگ کونسل میں ایران مخالف قرارداد پیش کی، جو دراصل ایجنسی کی جانب سے ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر حملوں کا جواز فراہم کرنے کی کوشش تھی۔ اسلام ٹائمز۔ جمعے کے روز امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرامپ" نے "نیو جرسی" کے سفر کے دوران اپنے طیارے میں صحافیوں سے بات چیت کی۔ جس میں انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کی انسپکشن یا یورینیم کی افزودگی روکنے پر اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنا دعویٰ دُہرایا کہ تین جوہری مقامات پر حملوں کے بعد ایران کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ کے لیے پیچھے چلا گیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تہران اسے کسی اور جگہ سے دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرامپ نے کہا کہ وہ سوموار کو صیہونی وزیراعظم "نیتن یاہو" کے دورہ امریکہ اور وائٹ ہاؤس میں اُن سے ملاقات کے موقع پر ایران کے بارے میں بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تہران کو اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اگر وہ شروع کریں گے تو نیا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران اُن سے ملنے کا خواہاں ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرامپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب IAEA نے جمعے کو اعلان کیا کہ اس نے ایران سے اپنے آخری معائنہ کاروں کو واپس بلا لیا کیونکہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ان انسپکٹرز کی موجودگی پر گہرا جمود پیدا ہو گیا۔ مجلس شورایٰ اسلامی کے نام سے معروف ایرانی پارلیمنٹ نے حالیہ حملوں کے بعد ایک قانون منظور کیا جس کی رو سے جوہری تنصیبات کی سلامتی کو یقینی بنائے جانے تک IAEA کے ساتھ تعاون معطل کر دیا گیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ IAEA نے اس وقت اپنے معائنہ کاروں کو واپس بلایا جب ایران کی جانب سے باقاعدہ طور پر اس ادارے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ ایران کا موقف ہے کہ IAEA کے ڈائریکٹر جنرل "رافائل گروسی" کی تنقیدی رپورٹ کی بنیاد پر امریکہ کی حمایت سے تین یورپی ممالک نے گورننگ کونسل میں ایران مخالف قرارداد پیش کی، جو دراصل ایجنسی کی جانب سے ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر حملوں کا جواز فراہم کرنے کی کوشش تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات ڈونلڈ ٹرامپ ایران کی پر حملوں انہوں نے کرنے کی کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی