امریکی وفاقی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا میکسیکو سرحد سے  پناہ گزینوں کے داخلے پر مکمل پابندی لگانے کی کوشش کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے، اسے روک دیا ہے۔

فیصلہ امریکی آئین اور قوانین کی فتح قرار

وفاقی جج رینڈولف موس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سابق صدر ٹرمپ نے اپنی آئینی حدود سے تجاوز کیا اور کانگریس کے بنائے ہوئے قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے پناہ کی درخواستوں پر مکمل پابندی عائد کی، جو کہ غیرقانونی ہے۔

یہ بھی پڑھیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 30 ہزار تارکین وطن کو گوانتاناموبے جیل بھیجنے کے لیے تیار

جج موس نے اپنے 128 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ یا آئین صدر کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ پناہ کی درخواستوں پر مکمل طور پر پابندی لگا کر ایک علیحدہ، غیرقانونی نظام نافذ کرے۔

حکومت کو اپیل کا موقع دیا گیا

عدالت نے یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ نہ کرنے کا حکم دیا ہے، بلکہ حکومت کو اپیل دائر کرنے کے لیے 2 ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے آغاز پر ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں انہوں نے میکسیکو سے غیرقانونی داخلے کو ’امریکا پر حملہ‘ قرار دیا اور اس بنیاد پر پناہ کے حق کو معطل کر دیا تھا۔ ان کے بقول یہ قدم امیگریشن نظام میں بدعنوانی روکنے کے لیے ضروری تھا۔

سرحدی گرفتاریوں میں نمایاں کمی

عدالتی فیصلے کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس نے یہ بھی اعلان کیا کہ جون میں بارڈر پٹرول نے صرف 6,070 افراد کو گرفتار کیا، جو مئی کے مقابلے میں 30 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو یہ 1966 کے بعد کی سب سے کم سالانہ گرفتاریوں کی شرح ہو گی۔

ACLU کی قانونی فتح

امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان افراد کے لیے فتح ہے جو ظلم اور خطرے سے بھاگ کر امریکا میں پناہ لینا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے امریکا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف تاریخی آپریشن کا آغاز

امریکن سول لبرٹیز یونین کے وکیل لی گلرنٹ نے کہا ’یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ صدر کسی قانون کو محض ‘ہنگامی حالت’ قرار دے کر نظر انداز نہیں کر سکتے۔ پناہ کے خواہش مند افراد کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔‘

تاحال وائٹ ہاؤس، محکمہ انصاف، اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ