واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ کئی ممالک ابراہم معاہدے کا حصہ بننے والے ہیں، روسی صدر سے گفتگو میں سخت مایوسی ہوئی، لگتا ہے وہ جنگ روکنا نہیں چاہتے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میری لینڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری خطرے کے اعتبار سے ختم کردیا گیا ہے، کل روسی صدر سے ہونی والی گفتگو سے سخت مایوسی ہوئی، نہیں لگتا کہ صدر پیوٹن جنگ روکنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 10 سے 12 ممالک کو ٹیرف کے نفاذ کے خطوط آج ارسال ہونگے، 10 سے 70 فیصد تک ٹیرف عائد ہوگا، تجارتی شراکت داروں کو مناسب رعایت دی جائے گی۔

آئیوا میں 250 ویں یوم آزادی کی تقریب سےخطاب میں دعویٰ کیاکہ ایران کے جوہری تنصیبات کو مکمل تباہ کردیا،ہم نےایران میں بہترین کام کیا،اورہرہدف کوکامیابی سےنشانہ بنایا،اب ایران امریکا سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

امریکی صدر نے کہا ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج اور طیارے ہیں،ہمارے پاس سب سے بہترین شیلڈ ہوگی،گولڈن ڈوم میزائل شیلڈ ملک کو ایران کی جوابی کارروائیوں سے محفوظ رکھے گا۔

ٹرمپ نےاگلی صدارتی مدت کیلئےقانون میں تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے کہامیں مزید چارسال کےلیے امریکا کا صدربنوں گا،ہماری حکومت کو165دن ہوگئے،امریکابہت کامیاب ہورہاہے،ایسا کامیاب امریکا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔،لوگوں نےکہا کہ میں جارج واشنگٹن اورابراہم لنکن سے بھی بہترصدر ہوں گا۔

مزیدکہاقاتلوں، منشیات فروشوں کوہم یہاں سے نکال رہے ہیں،غیرقانونی زرعی مزدوروں کی ملک بدری پر فیصلہ کسان کریں گے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام