عالمی برادری نتین یاہو کو سزا دلوانے کیلئے کارروائی کرے، حماس
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں فلسطین کی مقاومت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسے مجرم کا سامنا ہے جو قتل و نسل کشی کے جنون میں مبتلا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آج صبح فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" نے صیہونی وزیراعظم "نتین یاہو" کے ٹرائل کا مطالبہ کر دیا۔ حماس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ نتین یاہو کے بیانات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہمیں ایک ایسے مجرم کا سامنا ہے جو قتل و نسل کشی کے جنون میں مبتلا ہے۔ وہ اپنے مفادات کی خاطر خطے کو آگ کے دہانے پر لے جا رہا ہے۔ نتین یاہو کا عارضی جنگ بندی پر اصرار، مذاکرات کو بے نتیجہ کرنے اور صیہونی قیدیوں کی رہائی کو خطرے میں ڈالنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ حماس نے مزید کہا کہ واشنگٹن اس بات کی وضاحت کرے کہ صیہونی وزیراعظم کیوں فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے لئے ڈونلڈ ٹرامپ کے پیش کردہ منصوبے کو اپنا جنگی ہدف قرار دے رہے ہیں۔ حماس نے واضح الفاظ میں کہا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے وحشیانہ قتل عام کو بند کروانے کے لئے اقدامات اور نتین یاہو کے خلاف کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بین الاقوامی قوانین و کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وحشیانہ نسل کشی، قحط اور جبری نقل مکانی کے اپنے جرائم پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔