کیا جاپان میں تباہی آنے والی ہے؟ ’نئی بابا وانگا‘ کی پیشگوئی نے دنیا کو خوف میں مبتلا کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
کیا جاپان میں تباہی آنے والی ہے؟ ’نئی بابا وانگا‘ کی پیشگوئی نے دنیا کو خوف میں مبتلا کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 22 May, 2025 سب نیوز
ٹوکیو: جاپان کی معروف مانگا آرٹسٹ ریو تاتسوکی کی ایک نئی پیشگوئی نے دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جس کے باعث جولائی 2025 میں جاپان کا سفر کرنے والے ہزاروں سیاحوں نے اپنی ٹرپس منسوخ کر دیں۔
ریو تاتسوکی کو جاپان کی ’’ نئی بابا وانگا‘‘ کہا جا رہا ہے، کیونکہ ان کی ماضی کی کئی پیشگوئیاں، جیسے 2011 کا توہوکو زلزلہ اور فریڈی مرکری کی موت، درست ثابت ہو چکی ہیں۔
اب ان کی نئی کتاب “دی فیوچر آئی سا” کے مطابق جولائی 2025 میں جاپان اور فلپائن کے درمیان سمندر میں ایک بڑا زلزلہ اور سونامی آ سکتا ہے، جو 2011 کے تباہ کن سونامی سے تین گنا زیادہ طاقتور ہوگا۔
اس پیشگوئی کے بعد ہانگ کانگ کی ایک مشہور ٹریول ایجنسی WWPKG کے مطابق، جاپان جانے والے سیاحوں میں 50 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سیاحوں میں خوف، اضطراب اور سونامی جیسے خطرات کے خدشے نے سفری رجحانات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
اگرچہ جاپانی حکام نے تاتسوکی کی پیشگوئی کو تسلیم نہیں کیا، تاہم چینی سفارتخانے نے اپریل 2025 میں جاپان میں موجود اپنے شہریوں کو قدرتی آفات کے خلاف ہوشیار رہنے کی ہدایت جاری کی تھی، جس سے خدشات میں مزید اضافہ ہوا۔
سوشل میڈیا پر بھی یہ موضوع #July2025Prediction کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں کچھ لوگ اس پیشگوئی کو سنجیدہ لے رہے ہیں اور کچھ محض ایک اتفاق قرار دے رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو آزادیٔ کشمیر پر 6 دریا پاکستان کے ہونگے، ترجمان پاک فوج غزہ پر اسرائیلی بمباری سے مزید 93 فلسطینی شہید، یہودی آبادکاروں کی مسجد جلانے کی کوشش واشنگٹن میں فائرنگ سے خاتون سمیت اسرائیلی سفارتخانے کے 2 اہلکار ہلاک، ایک مشتبہ شخص گرفتار عالمی دباؤ کام آگیا، اسرائیلی وزیراعظم غزہ میں عارضی جنگ بندی پر آمادہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں نے کرائی: ٹرمپ نے اپنا دعویٰ دہرا دیا جھوٹی خبریں پھیلانے کا الزام، بھارتی صحافی ارناب گوسوامی کے خلاف مقدمہ درج بھارت کے سینئر صحافی مودی حکومت پر برس پڑے، پاکستان سے جنگ میں نقصانات کا اعترافCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔