خضدار واقعہ: سینیٹ نے بھارتی دہشت گردی کے خلاف قرارداد منظور کرلی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
سینیٹ نے خضدار واقعے پر بھارتی دہشت گردی کے خلاف قردارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس میں خضدار واقعہ پر ایوان میں قردادار پیش کی گی جو کہ سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے پیش کی ایوان نے اسے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ خضدار میں معصوم بچیوں کی بس پر دہشت گردی کے بزدلانہ حملہ کی مذمت کرتے ہیں، بزدلانہ حملہ بھارت نے پلان کیا اور اپنی پراکسیز کے ذریعے خضدار میں حملہ کیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ معصوم بچوں کے خلاف یہ ایک شرم ناک اقدام اور ناقابل برداشت ہے، پوری قوم دہشت گردی کے اس بزدلانہ قوم کے خلاف متحد ہے، اس دہشت گردی کے خلاف آزادانہ انکوائری ہونی چاہیے تاکہ ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے کے خلاف
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔