خضدارمیں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کا اسکول بس پر حملہ 4بچوں سمیت 6 افراد شہید،38زخمی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
بس میں 47 بچے سوار تھے،شہدا میں چھٹی جماعت کی ثانیہ سومرو، ساتویں جماعت کی حفظہ کوثر اور دسویں جماعت کی عیشا سلیم شامل ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان،آئی ایس پی آر کی مذمت
بزدلانہ حملہ بھارت کے دہشتگردنیٹ ورک نے اپنی پراکسی تنظیموں کے ذریعے کروایا(آئی ایس پی آر)دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا مسخ شدہ چہرہ ہے، سیکیورٹی ذرائع
بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک اسکول بس کو دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چار معصوم بچوں سمیت 6 افراد شہید ہو گئے۔شہدا میں چھٹی جماعت کی ثانیہ سومرو، ساتویں جماعت کی حفظہ کوثر اور دسویں جماعت کی عیشا سلیم شامل ہیں، حملے میں متعدد بچے بھی زخمی ہیں جو اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ آج صبح خضدار میں اسکول بس پر حملہ کیا گیا جس میں 47 بچے سوار تھے اور اس افسوسناک واقعے میں 4 بچے شہید ہو گئے۔آئی ایس پی آر نے اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی طرف سے کیا گیا ہے۔ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ خضدار میں اسکول جانے والے بچوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا جو ایک المناک اور بزدلانہ اقدام ہے۔ آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت میدان جنگ میں شکست کھانے کے بعد ایسے گھناؤنے اور بزدلانہ واقعات کے پیچھے ہے، اور یہ حملے بھارت کے دہشت گرد نیٹ ورک نے اپنی پراکسی تنظیموں کے ذریعے کروائے ہیں۔پاکستانی فورسز نے واقعے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری رکھے جائیں گے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے تمام واقعات کے پس پردہ بھارت کا گھناؤنا اور مسخ شدہ چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے جیسی بزدلانہ کارروائیوں پر اتر آیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ خضدار میں اسکول کے بچوں کو لے جانے والی بس پر حملہ بھارتی سرپرستی میں کیا گیا۔ اس بھیانک حملے کی منصوبہ بندی بھارت میں کی گئی، جسے بلوچستان میں سرگرم اس کی پراکسی تنظیموں نے عملی جامہ پہنایا۔ذرائع کے مطابق بھارت نے یہ حملہ اس معرکۂ حق میں اپنی عبرتناک شکست کے بعد انتقامی جذبے کے تحت کروایا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کا نیٹ ورک استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے اندرونی امن کو نقصان پہنچانا ہے۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز مکمل چوکنا ہیں اور دہشت گردی کے تمام نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سیکیورٹی ذرائع ا ئی ایس پی ا ر دہشت گردی کے جماعت کی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔