خودکش دہشتگرد چھوٹی گاڑی میں آیا، گاڑی کو بس سے ٹکرایا، دہشتگرد کی لاش مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
سٹی42: اس امر کی تصدیق ہو گئی ہے کہ خضدار میں بچوں کی سکول بس پر بم حملہ خود کش دہشتگردی کا واقعہ تھا ۔ خودکش دہشت گرد دھماکہ خیز مواد سے لدی ہوئی چھوٹی گاڑی میں آیا تھا۔
خضدار حملے کی تحقیقات کرنے والے پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ خود کش دہشتگرد نے گاڑی کو زیرو پوائنٹ پر اسکول کے بچوں کی بس سے ٹکرایا ۔
خودکش دہشتگردی کی شناخت کروانے کے لیے اس کی لاش کے حصوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ۔
نیتن یاہو کے خلاف اسرائیل کی عدالتِ عظمیٰ کا اہم فیصلہ
اس دہشتگرد حملے میں تین بچیوں اور ایک بچے سمیت 6افراد شہید ہوئے اور طلبا اور طالبات سمیت 36سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
اس حملے مین بھاری مقدار مین دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ دھماکے سے دوسری گاڑیوں کے علاوہ سڑک پر موجود دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ خضدار کے سکول کے بچوں پر اس ششقی القلب حملے کے بارے میں مختلف پہلوئوں سے تحقیقات جاری ہیں۔
پی ایس ایل 10؛ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز فائنل میں پہنچ گئی
تحقیقاتی اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرنے کا کام مکمل کر لیا ہے۔
اس سے پہلے
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اس حملے کو ایک اور سفاکانہ اور بزدلانہ کارروائی قرار دیا، جس کی منصوبہ بندی کی گئی اور اسے بلوچستان میں بھارتی ریاست کے حمایت یافتہ دہشت گرد وں کے ذریعے انجام دیا گیا۔
پاک فوج کے ترجمان نے اس بزدلانہ حملے پر ادارہ کے ردعمل میں کہا، میدان جنگ میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد ان بھارتی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت اور بدامنی پھیلانے کے لیے ایسی گھناؤنی کارروائیوں کا سہارا لیا ہے۔
پی ایس ایل کوالیفائر؛ اسلام آباد یونائیٹڈ 3وکٹوں کا نقصان ؛111 رنز
بھارت ’’آپریشن بُنیانن مرسوس‘‘ کا سامنا کرنے میں شرم ناک ناکامی کے بعد اور پاکستان کی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان کا سرگرم تعاقب کیے جانے کے بعد اپنے بلوچستان میں موجود پراکسی گروہوں کو پاکستان میں معصوم بچوں اور عام شہریوں جیسے کمزور اہداف کے خلاف دہشت گردی کرنے کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بھارت کی جانب سے دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اخلاقی طور پر قابل مذمت اور بنیادی انسانی اقدار کی خلاف ورزی قرار دیا۔
سانحہ خضدار ؛ دہشتگردی کی یہ بزدلانہ واردات بھارت کے ایجنٹوں کی کارستانی ہے؛ وزیراعظم
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ اس بزدلانہ حملے کے ذمہ داروں بشمول منصوبہ سازوں اور حامیوں کا سراغ لگا کر انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جس سے بھارت کے وحشیانہ ہتھکنڈوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔
پاکستان کی مسلح افواج بہادر پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ، پاکستان سے ہر قسم کی ہندوستانی اسپانسرڈ دہشت گردی کو ختم کرنے کے اپنے عزم میں متحد ہیں۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔