سٹی42: اس امر کی تصدیق ہو گئی ہے کہ خضدار  میں  بچوں کی سکول بس پر بم حملہ خود کش  دہشتگردی کا واقعہ تھا ۔ خودکش دہشت گرد  دھماکہ خیز مواد سے لدی ہوئی  چھوٹی گاڑی میں آیا  تھا۔

خضدار حملے کی تحقیقات کرنے والے پولیس ذرائع  نے بتایا ہے کہ  خود کش دہشتگرد نے گاڑی کو زیرو پوائنٹ پر اسکول کے بچوں کی  بس سے ٹکرایا  ۔ 

خودکش دہشتگردی کی  شناخت  کروانے کے لیے اس کی لاش کے حصوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ۔ 

نیتن یاہو کے خلاف اسرائیل کی عدالتِ عظمیٰ کا اہم فیصلہ

اس دہشتگرد حملے  میں تین بچیوں اور ایک بچے سمیت 6افراد شہید  ہوئے  اور   طلبا اور طالبات سمیت 36سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

اس حملے مین بھاری مقدار مین دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔  دھماکے سے دوسری گاڑیوں کے علاوہ سڑک پر موجود  دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ خضدار  کے سکول کے بچوں پر  اس  ششقی القلب حملے کے بارے میں مختلف پہلوئوں سے تحقیقات جاری ہیں۔

پی ایس ایل 10؛ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز فائنل میں پہنچ گئی

 تحقیقاتی اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرنے کا کام مکمل کر لیا ہے۔ 

اس سے پہلے

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اس حملے کو ایک اور سفاکانہ اور بزدلانہ کارروائی قرار دیا، جس کی منصوبہ بندی کی گئی اور اسے بلوچستان میں بھارتی ریاست کے  حمایت یافتہ دہشت گرد وں کے ذریعے انجام دیا گیا۔

پاک فوج کے ترجمان نے اس بزدلانہ حملے پر ادارہ کے ردعمل میں کہا،  میدان جنگ میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد ان بھارتی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت اور بدامنی پھیلانے کے لیے ایسی گھناؤنی کارروائیوں کا سہارا لیا ہے۔

پی ایس ایل کوالیفائر؛ اسلام آباد یونائیٹڈ  3وکٹوں کا نقصان ؛111 رنز

بھارت ’’آپریشن بُنیانن مرسوس‘‘  کا سامنا کرنے میں شرم ناک ناکامی کے بعد اور پاکستان کی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان کا  سرگرم تعاقب کیے جانے کے بعد  اپنے بلوچستان میں موجود  پراکسی گروہوں کو  پاکستان میں معصوم بچوں اور عام شہریوں جیسے کمزور اہداف کے خلاف دہشت گردی کرنے کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

آئی ایس پی آر نے بھارت کی جانب سے دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اخلاقی طور پر قابل مذمت اور بنیادی انسانی اقدار کی خلاف ورزی قرار دیا۔

سانحہ خضدار ؛ دہشتگردی کی یہ بزدلانہ واردات بھارت کے ایجنٹوں کی کارستانی ہے؛ وزیراعظم

انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ اس بزدلانہ حملے کے ذمہ داروں بشمول منصوبہ سازوں اور حامیوں کا سراغ لگا کر انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جس سے بھارت کے وحشیانہ ہتھکنڈوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔

پاکستان کی مسلح افواج بہادر پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ، پاکستان سے ہر قسم کی ہندوستانی اسپانسرڈ دہشت گردی کو ختم کرنے کے اپنے عزم میں متحد ہیں۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار