4 دنوں میں بھارت کو جو سبق سکھایا گیا اس سے 1971 کی شکست کا بدلہ لے لیا ، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
مظفر آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22 مئی 2025)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ4 دنوں میں بھارت کو جو سبق سکھایا گیا اس سے 1971 کی شکست کا بدلہ لے لیا گیا ، پاکستان اور بھارت کی جنگ کسی بھی لمحے انتہائی خطرناک رخ اختیار کرسکتی تھی جس کے نتائج بہت بھیانک ہوسکتے تھے، بھارتی جارحیت میں شہید پاکستانی شہریوں کے لواحقین میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب کاانعقاد کیا گیا۔
وزیراعظم نے شہدا کے ورثا کو ایک کروڑ روپے اور زخمیوں کو دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے کے چیک دئیے بہت جلد باقی تمام کو بھی دے دئیے جائیں گے۔ افواج پاکستان کے شہدا کو رینک کے حساب سے ایک کروڑ سے لے کر ایک کروڑ 80 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا خطاب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ ہے وہ تاریخ وہ پاکستان کی افواج نے اپنے خون سے رقم کی ہے، اب مودی سرکار پاکستان پر حملہ آور ہونے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گی۔(جاری ہے)
پہلگام کا واقعہ افسوسناک تھا۔بھارت نے اس کی آڑ میں پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کردی۔ہم نے کہا کہ پاکستان اس واقعے کی عالمی تحقیقات کیلئے تیار ہیں مگر بھارت نے اس پر راضی ہونے کے بجائے پاکستان پر حملہ کردیا۔بھارت نے نہتے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا مگر ہم نے جوابی کارروائی میں بھارت کے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا اور ان کے 6 جہاز گرائے اور الفتح میزائلوں سے چھٹی کا دودھ یاد دلایا مگر ہندوستان باز نہیں آیا اور اس نے حملے جاری رکھے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے الزامات کے جواب میں ہم نے اس کے خلاف پوری دنیا کو باور کروایا کہ یہ جھوٹا اور بے بنیاد الزام ہے اور یہ سازش کا حصہ ہے جو خطے کے امن کو تباہ و برباد کرسکتا ہے۔ہم نے کہا کہ پاکستان اس واقعے کی عالمی تحقیقات کیلئے تیار ہیں مگر بھارت اس پر تیار نہیں تھا۔دنیا کے بیشتر ممالک اس بات پر متفق تھے کہ پاکستان حق پر ہے بھارت اس غرور میں تھا کہ دنیا کی طاقتیں اس کے ساتھ کھڑی ہوجائیں گی مگر بھارت کے دوست غیرجانبدار ہوگئے اور جو پہلے ہی غیرجانبدار تھے وہ پاکستان کے ساتھ ہوگئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 9 مئی کی رات کو ہم نے بھارت پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ سپہ سالار نے فون پر مجھ سے کہا کہ دشمن کو ایسا زوردار تھپڑ لگایا جائے کہ وہ قیامت تک یاد رکھے۔ اس کے نتیجے میں پھر آپ نے دیکھا کہ پٹھان کوٹ سے لے کر بھارت کا کوئی بھی ایئرپورٹ ہمارے شاہینوں اور الفتح میزائلوں کی رینج سے باہر نہیں تھا۔پھر صبح 9 بجے مجھے سپہ سالار کا فون آیا کہ بھارت جنگ بندی یعنی گھٹنے ٹیکنے کیلئے تیار ہے۔اب مودی سرکار پاکستان پر حملہ آور ہونے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گی کیونکہ اسے پتا چل گیا ہے کہ ہماری افواج پوری طرح تیار ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بھی کہناتھا کہ اس جنگ نے یہ ابہام غلط ثابت کردیا کہ پاکستان روایتی جنگ میں بھارت سے پیچھے رہ گیا ہے ہمیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ جنگ میں فتح کی صورت میں اللہ نے ہمیں عزت دی مگر یہ عزت ان شہدا ، ان غازیوں کی مرہون منت ہے جنہوں نے پاکستان اور بھارت کے حملے سے نہ صرف بچایا بلکہ دشمن کو ایک ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی بھلا نہیں پائے گا۔اگر آج قوم نے چیف آف آرمی سٹاف کو فیلڈ مارشل کا خطاب دیا ہے تو یہ قوم کی بہت بڑی عزت ہے کہ ایسا دلیر سپاہی ہے جس نے فرنٹ سے لیڈ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد تھی۔ یہ اتحاد وہ دولت ہے جو کسی بھی قوم کو نصیب ہوجائے تو بڑی سے بڑی مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ ہم نے اسی اتحاد اور اتفاق کی طاقت سے معاشی ترقی میں آگے بڑھنا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیراعظم شہباز شریف کہ پاکستان میں بھارت بھارت کے پر حملہ تھا کہ کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب