Express News:
2026-07-24@06:46:32 GMT

کاٹن ایئر 2024-25 میں مجموعی پیداوار 55 لاکھ گانٹھ رپورٹ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT

کراچی:

فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر کے بعد نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی گزشتہ2 سال سے جاری کردہ کپاس کی زمینی حقائق کے برعکس مجموعی قومی پیداوار کے مضحکہ خیز اعدادو شمار کے باعث مقامی کاٹن سیکٹر میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔ 

فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر کی جانب سے گذشتہ10سال سے کپاس کی کاشت اور پیداواری ہدف سے متعلق اعدادوشمار حقیقت کے برعکس ثابت ہوئے ہیں جو پورے کاٹن سیکٹر کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ 

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کاٹن ایئر 2023-24 کے دوران کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار 84 لاکھ گانٹھ رپورٹ کی گئی تھی جبکہ این اے سی کی جانب سے یہ پیداوار ایک کروڑ 2 لاکھ 20 ہزار گانٹھیں بتائی گئی ہے۔ 

مزید پڑھیں: کاٹن سیکٹر میں بحران کے باعث کپاس کی کاشت کا مومینٹم نہ بن سکا

پی سی جی اے کی جانب سے کاٹن ایئر 2024-25 کے دوران کپاس کی مجموعی قومی پیداوار55 لاکھ گانٹھ رپورٹ کی گئی ہے جبکہ این اے سی نے یہ پیداوار 70 لاکھ 80 ہزار گانٹھ رپورٹ کی ہے جس کے باعث کاٹن انڈسٹری اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز میں تشویش دیکھی جا رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایف سی اے اور این اے سی کی جانب سے جاری ہونے والے غلط اعداد و شمار کے باعث کاٹن اسٹیک ہولڈرزکو کاشت، درآمدات اور قیمتوں کے تعین اور حکمت عملی کی مرتب کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی جانب سے کے باعث کپاس کی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق