اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ملک کے معروف رئیل اسٹیٹ گروپ بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خلاف 26 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس واجبات کی وصولی کے لیے اہم اقدام اٹھا لیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر انکم ٹیکس (IR)، زون IV، یونٹ XIII، بڑے ٹیکس دہندگان کے دفتر، اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے تحت چھ افسران کو بحریہ ٹاؤن کے مختلف دفاتر میں بطور ریسیور تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی انکم ٹیکس ریکوری رولز 2002 کے قاعدہ 179 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق مقرر کیے گئے افسران میں محمد نواز، عقیل رفیق، محمد سجاد، ملک خورشید محمد، محمد حسیب طاہر اور منتاب محمود شامل ہیں، جنہیں بحریہ ٹاؤن کے راولپنڈی اور اسلام آباد میں واقع مختلف ہیڈ آفسز میں تعینات کیا گیا ہے۔ ان افسران کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کمپنی کے خلاف بقایا ٹیکس کی وصولی کا بندوبست کریں۔

دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کو کسی بھی قسم کی کاروباری منتقلی یا اثاثوں کے چارج کرنے سے روک دیا گیا ہے کیونکہ کمپنی کا کاروبار اب باقاعدہ طور پر انکم ٹیکس قوانین کے تحت منسلک کر دیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق بحریہ ٹاؤن پر ٹیکس سال 2020 اور 2022 کے دوران 26,124,468,901 روپے کی رقم واجب الادا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کمپنی کے مختلف دفاتر بشمول بحریہ ٹاؤن فیز IV، فیز VIII اور بحریہ انکلیو میں اس نوٹس کو چسپاں کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں، تاکہ کمپنی کو باضابطہ طور پر مطلع کیا جا سکے۔ ایف بی آر کے مطابق یہ اقدام ملکی مالیاتی نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی ایک بڑی پیش رفت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بحریہ ٹاؤن دیا گیا ہے

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا