عدالت نے وکیل کے دلائل سننے کے بعد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے کنٹونمنٹ بورڈ کو متروکہ وقف املاک پر پراپرٹی ٹیکس نوٹسز دینے سے روک دیا اور آئندہ سماعت تک کنٹونمنٹ بورڈ کو ٹیکس وصولی سے باز رہنے کا حکم دے دیا۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ نے متروکہ املاک پر کنٹونمنٹ بورڈ کو پراپرٹی ٹیکس نوٹسز دینے سے روک دیا۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔ عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کو نوٹس بھی جاری کر دیا۔ وکیل متروکہ املاک حافظ احسان نے دلائل دیے کہ متروکہ املاک پراپرٹیز وفاقی حکومت کی ملکیت ہیں، وفاقی حکومت پر کنٹونمنٹ بورڈ پراپرٹی ٹیکس نہیں لگا سکتا اور آئین واضع ہے وفاقی حکومت کی پراپرٹی پر ٹیکس کوئی دوسرا ادارہ نہیں لگا سکتا۔ عدالت نے وکیل کے دلائل سننے کے بعد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے کنٹونمنٹ بورڈ کو متروکہ وقف املاک پر پراپرٹی ٹیکس نوٹسز دینے سے روک دیا اور آئندہ سماعت تک کنٹونمنٹ بورڈ کو ٹیکس وصولی سے باز رہنے کا حکم دے دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کنٹونمنٹ بورڈ کو متروکہ املاک عدالت نے املاک پر

پڑھیں:

بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار دے دیں۔وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت نے تفصیلی فیصلہ میں لکھا کہ یہ ہڑتالیں سائلین کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہیں، ایسی ہڑتالیں شہریوں کو قانونی نمائندگی سے محروم اور پہلے سے دباؤ کا شکار اور عدالتی نظام پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں، جب ہڑتال کی کال دی جاتی ہے تو وکلا تنظیمیں وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکتی ہیں۔

سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب

فیصلہ میں بتایا گیا کہ وکیل کی عدم پیشی پر مقدمے کی سماعت بغیر کسی پیش رفت کے ملتوی کر دی جاتی ہے، ہمارا قانونی نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، عدالتوں میں مقدمات کی طویل فہرستیں موجود ہیں، سائلین کو اپنے مقدمات کے فیصلے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ چاہے وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، یہ مسئلے کا حل نہیں، انصاف تک رسائی سے کسی بھی شکل میں محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کے پی بار کونسل نے وکلا کو وکیل کے قتل میں نامزد ملزم ایس ایچ او کی قانونی نمائندگی سے روکا، پولیس افسر کی قانونی نمائندگی پر وکیل کا لائسنس معطل کر دیا گیا، متاثرہ وکیل نے لائسنس معطلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاہم پشاور ہائیکورٹ نے درخواستیں منظور کرتے ہوئے لائسنس بحالی کا فیصلہ دیا۔

سندھ سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت

آئینی عدالت نے وکیل کے لائسنس بحال کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار
  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی