میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کیلئے ایک لاکھ 40 ہزار امیدوار، ٹیسٹ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلوں کے لیے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کا آغاز ہو گیا، امتحانی مراکز کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، طبی حکام بھی موقع پر موجود ہیں۔ملک کے 188 سرکاری و نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کیلئے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ ہو رہا ہے، ملک میں 35 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ ایک بین الاقوامی مرکز ریاض میں قائم کیا گی،پنجاب میں 46، سندھ میں 17، خیبرپختونخوا میں 11، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں1، 1 نجی میڈیکل کالج ہے، اسی طرح خیبرپختونخوا میں 6، پنجاب میں 25 اور سندھ میں 12 نجی ڈینٹل کالجز کام کر رہے ہیں۔یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیراہتمام پنجاب کے 12 شہروں میں ایم ڈی کیٹ امتحان شروع ہوگیا، ایم ڈی کیٹ امتحان میں صوبے بھر سے 50,461 امیدوار شریک ہیں، امیدواروں میں 36,702 لڑکیاں اور 13,759 لڑکے شامل ہیں، لاہور سمیت 12 شہروں میں 27 امتحانی مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے انعقاد کے موقع پر سخت ترین حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے امتحانی مراکز پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، امتحانی پرچے ضلعی انتظامیہ کے افسران اور پولیس کی کڑی نگرانی میں امتحانی مراکز پر پہنچائے گئے۔ایم ڈی کیٹ امتحان میں 3,263 سکول ٹیچرز بطور نگران فرائض انجام دے رہے ہیں، ہائر ایجوکیشن کے 165 ٹیچرز کو سپرنٹنڈنٹ اور 347 کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تعینات کیا گیا، تمام عملے کو سپیشل برانچ کی کلیئرنس کے بعد تعینات کیا گیا۔
لاہور
ایم ڈی کیٹ امتحان کیلئے لاہور میں چھ مراکز قائم کیے گئے، لاہور میں چار مراکز لڑکیوں کے اور دو لڑکوں کے ہیں، مجموعی 11,906 امیدواروں میں سے 8,799 لڑکیاں اور 3,107 لڑکے ہیں۔ملتان میں 8,313، بہاولپور 3,014، فیصل آباد 5,824، گوجرانوالہ 2,665 اور سیالکوٹ میں 2,786 امیدوار شرکت کر رہے ہیں جبکہ ڈی جی خان میں 2,408، گجرات 1,402، راولپنڈی 6,910، سرگودھا 2,091اور ساہیوال میں 2,688 امیدوار ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں شریک ہیں۔ایم ڈی کیٹ صبح 10بجے شروع ہوا، امیدوار صبح 8 بجے سے امتحانی مراکز پہنچنا شروع ہوگئے، نو بجے تمام امتحانی مراکز داخلے کیلئے بند کردیے گئے، نقل روکنے کیلئے امیدواروں کی جامہ تلاشی لی گئی اور واک تھرو گیٹ سے گزارا گیا، میٹل ڈیٹیکٹر سے بھی جانچ کی گئی۔امتحانی مراکز پر شہری دفاع، محکمہ صحت، ریسکیو 1122، نادرا اور فائر بریگیڈ کا عملہ بھی موقع پر موجود ہے، تمام امتحانی مراکز کے باہر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے والدین کیلئے بیٹھنے کا خصوصی انتظام کیا گیامحکمہ صحت کے افسران، ڈپٹی کمشنرز، میڈیکل اداروں کے وائس چانسلرزاور پرنسپلز ایم ڈی کیٹ کی مانیٹرنگ پر تعینات کئے گئے ہیں، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے نمائندے بھی ایم ڈی کیٹ کی مانیٹرنگ کیلئے موجود ہیں۔وائس چانسلر یو ایچ ایس نے سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر عظمت محمود کے ہمراہ لاہور میں امتحانی مراکز کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔واضح رہے کہ امیدواروں کو ٹیسٹ کے بعد سوالیہ پرچہ ساتھ لے جانے کی اجازت ہوگی، امیدوار اپنے ریسپانس فارم کی کاربن کاپی اور جوابی کلید کی مدد سے سیلف سکورنگ کر سکیں گے۔امیدوار شام 6 بجے تک کسی بھی سوال پر اپنا اعتراض بذریعہ آن لائن پورٹل دائر کرسکتے ہیں، یو ایچ ایس تمام اعتراضات کے جائزے کے بعد جوابی کلید رات 10 بجے اپنی ویب سایٹ پر جاری کردے گی۔ایم ڈی کیٹ کا آفیشل رزلٹ ایک ہفتے میں جاری کیا جائے گا۔
کراچی
کراچی میں 3 گھنٹے جاری رہنے والے ٹیسٹ کا وقت 1 بجے ختم ہوگا، انتظامات کےحوالےسے امیدواروں اوروالدین کا عدم اطمینان کا اظہارکیا۔امیدواروں اور والدین کے مطابق ٹیسٹ 10 بجےشروع ہونا ہے اور ہمیں صبح ساڑھے 6بجےرپورٹ کرنے کا کہا گیا، اگربچوں کوبروقت امتحانی مرکز میں داخل ہونے دیا جاتا تو لمبی لمبی قطاریں نہ لگتیں۔والدین نے کہا کہ اگربچے گھنٹوں لائن میں لگے رہیں گے تو وہ ذہنی اورجسمانی طور پر مشکلات کا شکار ہو کر ٹیسٹ میں صحیح کارکردگی نہیں دکھا پائیں گے۔والدین نے کہا کہ ہم بے یارومددگار سڑک پربیٹھے ہوئےہیں، شدید گرمی میں کوئی انتظام نہیں کیا گیا، انتظامیہ نے شیڈ کافی دور بنایا ہے۔
راولپنڈی
گورنمنٹ گریجویٹ کالج سیٹلائٹ ٹاؤن میں درجنوں طلبا کو بروقت پہنچنے کے باوجود پیپر سے محروم کئے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا، 9 بجکر 2 منٹ پر پہنچنے پر طلبا کو اندر جانے کی اجازت نہ ملی، طلبا میں میانوالی ، بھکر اور دیگر شہروں کے طلبا بھی شامل ہیں۔سیکیورٹی روٹس کے باعث ٹریفک جام سے پیپر دینے آنے والا سٹوڈنٹس کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا، طلبا نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو فوری نوٹس لینے کی اپیل کر دی۔
لاڑکانہ
چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کی 250 اور آصفہ ڈینٹل کالج کی 50 سیٹوں کے لیے انٹری ٹیسٹ آئی بی اے سکھر کے زیر اہتمام پی ٹی ایس گراؤنڈ میں لیا جارہا ہے ۔لاڑکانہ چانڈکا میڈیکل کالج اور ڈینٹل کالج کی 300 سیٹوں کے لیے 3 ہزار سے زائد طلبہ اور طالبات انٹری ٹیسٹ میں حصہ لے رہے ہیں ، انٹری ٹیسٹ میں 1700 طلبہ اور 1600 طالبات حصہ لے رہے ہیں انتظامیہ نے پولیس ٹریننگ سنٹر میں ایم ڈی کیٹ انٹری ٹیسٹ لینے کے لیے انتظامات مکمل قرار دیئے۔
فیصل آباد
فیصل آباد میں پی ایم ڈی سی کے زیر اہتمام ایم ڈی کیٹ کا انعقاد ہو رہا ہے، 4 ہزار 213 لڑکیاں، 1 ہزار 611 لڑکے ٹیسٹ دینے پہنچ گئے۔ڈی پی ایس اور جی سی یونیورسٹی میں ٹیسٹ سنٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں پولیس کے 300 سے زائد جوان تعینات ہیں۔
پشاور
خیبرپختونخوا کے 7 اضلاع پشاور، مردان، سوات، دیر لوئر، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان اور ایبٹ آباد میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ لیا جا رہا ہے، ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں کل 39 ہزار 981 امیدوار شریک ہیں۔انتظامیہ کے مطابق امتحان میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات، خفیہ کیمرے، موبائل جیمرز، جدید مانیٹرنگ سسٹم اور دفعہ 144 نافذ ہے ، امتحانی مراکز میں موبائل فون، اسمارٹ واچز، ایئربڈز، کیلکولیٹر یا کسی بھی قسم کے الیکٹرانک آلات لانے پر سخت پابندی ہے۔
حیدر آباد
حیدرآباد کے پبلک سکول کے اندر امتحانی سنٹر قائم کیا گیا ہے، 5 ہزار سے زائد طلباء امتحان دے رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر سمیت انتظامیہ موجود ہے، سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، 3 گھنٹے پر محیط ٹیسٹ کا آغاز صبح 10 بجے ہوا۔
گوجرانوالہ
ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے انعقاد کیلئے گوجرانوالہ میں 2 امتحانی مراکز قائم کئے گئے ہیں، یونیورسٹی آف پنجاب کیمپس اور قائد اعظم ڈویژنل پبلک سکول و کالج گوجرانوالہ میں مراکز قائم کئے گئے ہیں۔
مجموعی طور پر 2665 امیدوار جن میں 575 مرد اور 2090 خاتون امیدوار شرکت کر رہی ہیں، پنجاب یونیورسٹی گوجرانوالہ کیمپس میں 575 طلباء ٹیسٹ میں شریک ہیں، قائد اعظم ڈویژنل پبلک سکول میں 2090 طالبات شریک ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔