کور کمانڈر پشاور مبارکباد دینے آئے تھے، سرکاری ملاقات نہیں تھی: سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
پشاور +راولپنڈی(نوائے وقت رپورٹ) نو منتخب وزیراعلیٰ خیبر پی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ کور کمانڈر پشاور مجھے مبارکباد دینے آئے تھے اور یہ کوئی سرکاری ملاقات نہیں تھی جبکہ ہمارا مؤقف ایک ہی ہے جو ہم اندر کہتے ہیں وہی باہر بھی کہتے ہیں، وزیراعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی کی اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی ایک اور کوشش ناکام ہو گئی اور وہ ملاقات کئے بغیر ہی واپس روانہ ہو گئے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان سے کور کمانڈر پشاور سے ہونے والی ملاقات سے متعلق پوچھا گیا جس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ مجھے مبارکباد دینے آئے تھے یہ کوئی سرکاری ملاقات نہیں تھی اور اس ملاقات میں گفتگو غیر رسمی تھی جبکہ ہمارا مؤقف ایک ہی ہے جو ہم اندر کہتے ہیں وہی باہر بھی کہتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے وضاحت کی کہ وہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور جیسے انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکرٹری ان کے دفتر آتے ہیں اسی طرح کور کمانڈر بھی آ سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ججز یرغمال ہیں تو عوام کو بتائیں تاکہ انہیں آزاد کرایا جائے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں جسٹس لائرز فورم کے94 وکلاء کی انصاف لائرز فورم میں شمولیت کی تقریب سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ میری عمران خان سے ملاقات کرانے کے عدالتی احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ سڑک پر بیٹھنا میری کمزوری نہیں بلکہ عدالتوں کی بے بسی ہے جو اپنے احکامات پر عملدرآمد کرانے سے قاصر ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم ایک ریاست دو دستور کا کلچر ختم کرنے آئے ہیں۔26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کو مفلوج کردیا گیا ہے۔ ہماری جد وجہد حقیقی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی اور میڈیا کی آزادی کیلئے ہے جس میں وکلاء برادری کا مرکزی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی بار ایسوسی ایشنز کیلئے42 کروڑ روپے کی گرانٹس منظور ہو چکی ہیں جو چند دنوں میں فراہم کی جائیں گی، ہم نے آئین و قانون کو مکڑی کا جالا نہیں بننے دینا جس میں کمزور پھنس جائے اور طاقتور نکل جائے۔ آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہے، ہم نے طاقتور اور ناانصافی کرنے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے۔ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے وزیراعلیٰ بلوچستان، وزیراعلیٰ اور گورنر سندھ اور بے شمار لوگوں نے مجھے مبارکباد دی پتا نہیں تھا ہر شخص کی مبارکباد کی پریس ریلیز جاری کرنا ہوتی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے مبارکباد نہیں دی البتہ ہمارے لئے گندم بند کر دی گئی۔ خیبر پی کے میں گندم بند کرنے سے صوبے میں آٹے کا بحران ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی کی اڈیالہ جیل آمد پر پی ٹی آئی کارکن آپس میں لڑ پڑے، کارکنوں نے ایک دوسرے کو دھکے دیئے، مکے اور تھپڑ مارے، جھگڑا ڈی آئی خان سے آئے کارکن کی سہیل آفریدی سے ملنے کی کوشش کے دوران ہوا، وزیراعلیٰ کی گاڑی کو ویڈیو دکھانے پر بھی پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان ہنگامہ ہو گا۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کوئی پیشکش قبول نہیں کریں گے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنا ہمارا حق ہے۔عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ کور کمانڈر اور سی ایم کی ملاقات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ کور کمانڈر کی ملاقات کے بارے میں سہیل آفریدی سے پوچھیں، میرے علم میں نہیں کہ وزیر اعلیٰ اور کور کمانڈر کی ملاقات ہوئی ہے یا نہیں۔ خیبر پختونخوا میں کابینہ ہونی چاہیے، سہیل آفریدی چاہتے ہیں کہ کابینہ کی تشکیل سے قبل بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کر لیں۔ پارٹی کے تمام فیصلے بانی پی ٹی آئی کرتے ہیں، ہم بانی پی ٹی آئی کی دی گئی ہدایت کے مطابق چلیں گے۔ آزاد کشمیر میں جس حکومت کو تبدیل کیا جا رہا ہے ان کے پاس کوئی ووٹ نہ تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے کور کمانڈر خیبر پی کے پی ٹی آئی نے کہا کہ کہتے ہیں
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔