چیئرمین پیپلزپارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی حیران کن جسمانی تبدیلی اور وزن میں نمایاں کمی کی وجہ بیان کر دی۔

ایک خصوصی تقریب کے موقع پر، جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا بیٹن دیا گیا، صحافیوں سے گفتگو کے دوران بلاول نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنی روزمرہ کی زندگی اور غذا میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔

بلاول بھٹو نے بتایا کہ میں نے چینی اور کاربوہائیڈریٹس چھوڑ دیے ہیں اور باقاعدگی سے ورزش کر رہا ہوں۔

سابق وزیر خارجہ کے اس بیان سے وہ قیاس آرائیاں بھی ختم ہو گئیں جن میں کہا جا رہا تھا کہ وہ اوزیمپک استعمال کر رہے ہیں ، یہ ایک دوا ہے جو عموماً ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کو تجویز کی جاتی ہے اور وزن کم کرنے میں بھی معاون سمجھی جاتی ہے۔

جنوری 2025 میں سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی بیٹی کی شادی کے موقع پر جب بلاول بھٹو منظر عام پر آئے، تو ان کی جسمانی تبدیلی فوری طور پر سب کی توجہ کا مرکز بن گئی۔

اس کے بعد سے ان کے وزن میں کمی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں موضوع بحث بن گئی۔

اس کے علاوہ بلاول بھٹو نے رواں ہفتے ایک اور بیان میں خبردار کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری جنگ پورے خطے اور اس سے باہر بھی ہولناک نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہاں انہوں نے دفتر خارجہ سے بریفنگ لی تاکہ وہ دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں سفارتی مشن کی قیادت کر سکیں۔

بلاول نے بتایا کہ انہیں سیزفائر، مسئلہ کشمیر، دہشت گردی اور سندھ طاس معاہدے پر بھارتی حملوں سے متعلق ابتدائی بریفنگ دی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو