خیبر پختونخوا، زمینوں کے جعلی انتقالات پر محکمہ ریونیو کا اہلکار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اینٹی کرپشن خیبر پختونخوا کو ضلع چارسدہ کے ایک شہری کی شکایت موصول ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کی 794 کنال 14 مرلے اراضی، جو کہ 79 کروڑ روپے مالیت کی ہے، جعلی انتقالات کے ذریعے کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کردی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا نے زمینوں کے جعلی انتقالات پر محکمہ ریونیو کے اہلکار کو گرفتار کرلیا۔ اینٹی کرپشن خیبر پختونخوا کو ضلع چارسدہ کے ایک شہری کی شکایت موصول ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کی 794 کنال 14 مرلے اراضی، جو کہ 79 کروڑ روپے مالیت کی ہے، جعلی انتقالات کے ذریعے کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کردی گئی ہے۔ اینٹی کرپشن کی انکوائری ٹیم نے ریکارڈ کی جامع جانچ پڑتال کے بعد تصدیق کی کہ زمین کے یہ انتقالات بالکل جعلی ہیں۔ انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ محکمہ ریونیو کے اہلکار قانون گو اورپٹواری نے زمین کے جعلی انتقالات میں ملوث پائے گئے۔ اینٹی کرپشن خیبر پختونخوا نے فوری طور پر ان تمام ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے، قانون گو کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اینٹی کرپشن خیبر خیبر پختونخوا جعلی انتقالات
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :