کرپشن کیس میں گرفتار 3500 سرکاری ملازمین سے کتنی وصولی کی گئی؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
گزشتہ 3 برسوں کے دوران کرپشن اور دیگر بدعنوانیوں میں ملوث 3503 سرکاری ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
وفاقی اداروں میں کرپشن میں ملوث ملازمین کی گرفتاری اور ان سے کی جانے والی ریکوریز سے متعلق رپورٹ سامنے آئی ہے جس کےمطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن ونگ نے سال 2022 سے 25 تک 47 ایف آئی آر رجسٹر کر کے 434 ملزمان کے خلاف تحقیقات کیں۔
رپورٹ کے مطابق کرپشن میں ملوث 56 سرکاری ملازمین سے مجموعی طور پر 6 ہزار 367 ایکڑ اراضی جس کی مالیت 41 ارب 53 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے بازیاب کرائی گئی ہیں۔
علاوہ ازیں کرائے اور بقایا جات کی مد میں 99 کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی ہے۔
بجلی سے متعلق جرائم پر کارروائیاںایف آئی اے نے بجلی چوری اور بجلی سے متعلقہ دیگر کرپشن اور بدعنوانیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف 16 مارچ 2022 سے کارروائیوں کا اغاز کیا اس سلسلے میں 14 ہزار 859 ریڈ کیے گئے، 1350 انکوائریاں شروع کر کہ 1836 مقدمات درج کیے گئے اور 971 سرکاری ملازمین کو گرفتار کر کہ 4 ارب 32 کروڑ روپے کی بڑی ریکوری کی گئی۔
اس کے علاوہ ایف آئی اے نے ڈسکوز کے کرپٹ افسران کے خلاف یکم اپریل 2024 سے کارروائیوں کا اغاز کیا۔
اس عرصے میں ایک ہزار 389 ڈسکو افسران کو کرپشن میں ملوث پایا گیا جن کے خلاف 736 انکوائریاں شروع کر کے 193 مقدمات درج کیے گئے اور 261 ڈسکو افسران کو گرفتار کیا گیا۔
اووربلنگ کی تحقیقاتایف آئی اے نے ملک بھر میں مجموعی طور پر ایک ارب 10 کروڑ روپے کے اوور بلنگ کے کیسز کی تحقیقات کیں۔
اس سلسلے میں 109 انکوائریوں کا آغاز کیا گیا اور 44 مقدمات درج کیے گئے۔
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2022 سے مارچ 2025 تک ایف آئی اے کی جانب سے کرپشن میں ملوث 8 ہزار 784 سرکاری ملازمین کے خلاف انکوائریاں شروع کر کے 3 ہزار 479 مقدمات درج کیے گئے اور کرپشن میں ملوث 432 سرکاری ملازمین کو سزائیں دی گئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف آئی اے کرپشن پر سزائیں کرپشن پر کارروائیاں کرپشن پر گرفتاریاں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے کرپشن پر کارروائیاں کرپشن پر گرفتاریاں مقدمات درج کیے گئے سرکاری ملازمین کرپشن میں ملوث کروڑ روپے ایف آئی کے خلاف کی گئی
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔