ایتھلیٹ مونا خان نے ثابت کیا کہ خواتین کھلاڑی کسی سے کم نہیں: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسکرین گریب
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان کے کھلاڑی دنیا بھر کے میدانوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ایتھلیٹ مونا خان نے ثابت کیا کہ خواتین کھلاڑی کسی سے کم نہیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے ایتھلیٹ، جرنلسٹ مونا خان اور کوچ محمد یوسف نے ملاقات کی۔
مریم نواز نے ایتھلیٹ مونا خان اور کوچ محمد یوسف سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کا اولین مقصد نوجوانوں کو کھیلوں کے میدانوں کی طرف لے کر آنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’کھیلتا پنجاب‘ پروگرام کے تحت کھیلوں کے فروغ اور خواتین کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ صوبے میں منعقدہ پہلی پنک گیمز میں 1300 خواتین پلیئرز نے حصہ لے کر ریکارڈ قائم کیا، پنک گیمز کی انعامی رقم 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کردی گئی ہے۔
اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے مونا خان اور کوچ محمد یوسف کو 5، 5 لاکھ کے چیک دیے جبکہ مونا خان نے مریم نواز کو اجرک پہنائی اور پنسل اسکیچ پیش کیا۔
ایتھلیٹ مونا خان اور کوچ محمد یوسف نے وزیراعلیٰ مریم نواز کو گولڈ میڈل پیش کیا۔
مونا خان نے کہا کہ اپنا میڈل وزیرِاعلیٰ مریم نواز سے منسوب کرتی ہوں، پنجاب کے عوام سے ہمیشہ مریم نواز کے بارے میں تعریف سنی، عالمی سطح پر جب بھی اعزاز حاصل کروں گی تو پاکستان اور مریم نواز کا نام بھی آئے گا۔
واضح رہے کہ ایتھلیٹ مونا خان کو لندن میں 42.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مونا خان اور کوچ محمد یوسف ایتھلیٹ مونا خان مریم نواز
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟