وزیراعلیٰ پنجاب نے ’امام مسجد اعزازیہ کارڈ‘ کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
لاہور:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ”وزیراعلیٰ اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد صاحب“ کی منظوری دے دی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں فروری 2026ء تک اعزازیہ کارڈ کے اجراء کی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے امام مساجد کو یکم جنوری سے ادائیگی کا حکم دے دیا، پہلی مرتبہ پے آرڈر دیے جائیں گے جبکہ یکم فروری سے ”وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد صاحب“ کے ذریعے ادائیگی ہوگی۔مریم نواز نے ہدایت دی کہ آئمہ کرام کی رجسٹریشن کا عمل مسلسل جاری رکھے جائے، اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں 62994 آئمہ کرام کے رجسٹریشن فارم وصول ہوئے ہیں جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک و قوم کے مفادات کے خلاف اور اخلاقی یا مالی جرائم میں ملوث امام مسجد کا اعزازیہ بند کر دیا جائے گا، اجلاس میں صوبے بھر میں مسجد مینجمنٹ کمیٹیاں اور تحصیل مینجمنٹ کمیٹیاں بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا اسسٹنٹ کمشنروں کو ہر ماہ آئمہ کرام کو مدعو کرکے میٹنگ کی ہدایتوزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا حساس ایریا میں مسلسل کومبینگ آپریشن جاری رکھنے کی ہدایتاجلاس میں سیف سٹی کیمروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر سخت کاررائی کے لئے قانون سازی کا فیصلہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی فورتھ شیڈول جرائم پیشہ افراد کی ڈیجیٹل نگرانی کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف اعزازیہ کارڈ اجلاس میں
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔