عمران خان کا پولی گراف ٹیسٹ کرنا بے عزتی ہے: پی ٹی آئی رہنما
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں نے عمران خان کے پولی گراف ٹیسٹ کو ان کی بے عزتی قرار دیدیا۔
نجی ٹی وی جیو نیوزکے مطابق شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز عمرایوب اور شبلی فراز کے خطوط کے باوجود چیف الیکشن کمشنر کی تقرری نہیں کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا پولی گراف ٹیسٹ کرنے کی کوشش توہین آمیز ہے۔
اس کے علاوہ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانےکا کوئی فیصلہ نہیں کیا، تحریک عدم اعتماد لائیں گے توپکا کام کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بیک ڈور ملاقاتیں یا مذاکرات نہیں ہو رہے، ملک کی خاطر تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کررہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کا پولی گراف ٹیسٹ کرنا بے عزتی ہے۔
ورلڈ بینک کی 500 ملین ڈالر کی امداد سے سیلاب متاثرین کے گھر بروقت تعمیر ہوئے: مراد علی شاہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پولی گراف ٹیسٹ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔