پہلگام اورپاک بھارت کشیدگی پرغیرملکی صحافی کے سوالات، بھارتی وزیرخارجہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 مئی2025ء)بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر پاک بھارت کشیدگی میں امریکی کردار اور پہلگام واقعے سے متعلق غیر ملکی صحافی کے سوالوں پر آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔
(جاری ہے)
بھارتی ٹی وی کے مطابق دوران انٹرویو غیر ملکی صحافی نے بھارتی وزیر خارجہ سے سوال کیا کہ کیا پاک بھارت کشیدگی امریکی صدر ٹرمپ نے ختم کرائی غیر ملکی صحافی نے بھارتی وزیر خارجہ سے اگلا سوال کیا کہ آپ نے پہلگام میں 26 افراد کے قاتلوں کو پکڑ لیا ہی کیا ان کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہی اس سارے عمل میں امریکا کا کیا کردار تھا بعد ازاں بھارتی جماعت کانگریس نے یہ فوٹیج اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لگاتے ہوئے پوچھا ہے ان کی زبان کیوں لڑکھڑا رہی ہی
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔