ٹرمپ سے امید لگانے والے جان لیں کہ یہ جھوٹ اور فراڈ ہے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ٹرمپ سے امید لگانے والے جان لیں کہ یہ جھوٹ اور فراڈ ہے۔ وہ ادارہ نور حق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:جو جنگ ابھی لڑی گئی یہ 2019 میں ہونی چاہیے تھی، حافظ نعیم الرحمان
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ غزہ کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے ، اسرائیل بد مست ہاتھی بناہوا ہے۔ اسرائیل کے خلاف اب تو یورپ سے آواز بلند ہونا شروع ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ناکا بندی برقرار رکھی ہوئی ہے غذائی اجناس پہنچنا مشکل ہوگئی ہیں۔ غزہ میں شدید قحط سالی ہے ، یہ اس دور میں ہورہا ہے جب انسان چاند میں پہنچ رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے دوسری جانب غزہ میں بھوک سے فلسطینی بچے شہید ہورہے ہیں۔اسرائیل کے مظالم میں امریکا کی سرپرستی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کو نیتن یاہو ہی نہیں ٹرمپ بھی قتل کررہا ہے۔ جو لوگ ٹرمپ سے امیدیں لگارہے ہیں وہ جان لیں کہ یہ جھوٹ اور فراڈ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کو جواب دینا ناگزیر، کارکن قومی رضاکار بننے کے لیے تیار رہیں، حافظ نعیم الرحمان
ان کا کہنا تھا کہ عوامی سطح پر یورپ ، افریقہ اور آسٹریلیا میں بھی غزہ کی حمایت میں آواز بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔پاکستان میں بھی پورے ملک میں فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑے بڑے مارچز ہوئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار مالاکنڈ کی خواتین نے مارچ میں بھرپور شرکت کی۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ پاکستان میں موجود بڑی پارٹیوں میں سے کسی ایک نے بھی غزہ کی حمایت اور امریکا کی مذمت نہیں کی۔ تمام پارٹیاں امریکا سے امیدیں لگائے بیٹھی ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کے شعبہ میڈیکل فارم کے تحت 31 مئی کو کراچی میں تاریخی مارچ ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان فلسطین حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔