عید کی خوشیاں مستحقین تک پہنچانا ہمارا مشن ہے; صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
سٹی 42 : الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام قربانی فی سبیل اللہ مہم کے آغاز کے موقع پر ایک اہم پریس کانفرنس الخدمت ہیڈ آفس لاہور میں منعقد ہوئی۔
اس موقع پر ڈاکٹر حفیظ الرحمن کاکہنا تھا کہ ہر سال کی طرح رواں برس بھی الخدمت ملک بھر کے غربا، مساکین، یتامی، جیلوں میں قید افراد، بیواؤں اورخواجہ سراکمیونٹی سمیت دیگر مستحق خاندانوں کے لیے قربانی فی سبیل اللہ کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس سال بھی پاکستان کے علاوہ غزہ مہاجرین کے لیے مصر، اردن القدس اور ویسٹ بینک میں الخدمت چھوٹے اور بڑے جانوروں کی قربانی کے ذریعے غزہ مہاجرین تک قربانی کا گوشت محفوظ طریقے سے پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال عیدالاضحی کے موقع پر چھ ہزار بڑے اور چار ہزار چھوٹے جانوروں کی قربانی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے ملک بھر کے بیس لاکھ سے زائد مستحق افراد کو گوشت فراہم کیا جائے گا۔
اوکاڑہ ؛ ٹریفک حادثہ میں باپ سمیت 3 بچے جاں بحق ہوگئے
ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے اعلان کیا کہ وہ گزشتہ عید الاضحی کی طرح یہ عید فلسطینی مہاجرین کے ساتھ منائیں گے اور مصر میں موجود غزہ کے متاثرین میں قربانی کا گوشت تقسیم کریں گے، تاکہ انہیں عید کے موقع پر تنہا نہ چھوڑا جائے۔
نائب صدر الخدمت ذکر اللہ مجاہد نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کا ملک گیر نیٹ ورک چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں موجود ہے۔ تربیت یافتہ رضاکار، نگران کمیٹیاں اور ویٹرنری ماہرین جانوروں کی خریداری، دیکھ بھال، شرعی قربانی اور شفاف تقسیم کے تمام مراحل کی نگرانی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے قربانی کے تمام مراحل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے تجرباتی کیٹل فارمز، جدید سلاٹر ہاؤسز، چِلر ٹرانسپورٹ اور مستحقین تک باعزت ترسیل کو یقینی بنایا جاتا ہے، جبکہ عوام الناس میں دینی شعور، صحت و صفائی اور چرمِ قربانی کی حفاظت سے متعلق آگاہی مہمات کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس سے قربانی کے عمل میں معیار، شفافیت اور عزتِ نفس کا تحفظ ممکن ہوتا ہے
بھارت میں بننے والے آئی فون پر 25 فیصد ٹیرف، ٹرمپ نے دھمکی دیدی
۔ اکرام الحق سبحانی نے اس موقع پر کہا کہ گزشتہ سال غربت کی شرح سات فیصد بڑھی اور ایک کروڑ تیس لاکھ مزید پاکستانی غربت کا شکار ہوئے۔ یہاں ہمارے سامنے لاکھوں ایسے گھرانوں کی مثالیں موجودہیں جنھیں دو وقت کی روٹی تک میسرنہیں۔ ایسے حالات میں الخدمت فاؤنڈیشن جہاں مختلف محاذوں پر اپنے حصے کی شمع روشن کر رہا ہے، وہیں قربانی پراجیکٹ کے ذریعے بھی ضرورت مندوں تک گوشت فراہم کر رہا ہے۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں اور مسلم این جی اوز کا الخدمت پر بھرپور اعتماد ہے اور وہ جو قربانی الخدمت کے سپرد کرتے ہیں، اُس کی مکمل شرعی و اخلاقی بنیادوں پر تکمیل اور رپورٹنگ کی جاتی ہے۔
قربانی کےجانوروں کی چوری میں ملوث عناصرکیخلاف کریک ڈاؤن
پریس کانفرنس میں الخدمت کمیونٹی سروسز کے چیئرمین ذکر اللہ مجاہد، الخدمت پنجاب وسطی کے صدر اکرام الحق سبحانی، سیکرٹری جنرل الخدمت لاہور ریجن پروفیسر ڈاکٹر اعجاز نذیر اور نیشنل ڈائریکٹر الخدمت کمیونٹی سروسز عامر محمود چیمہ نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: الخدمت فاؤنڈیشن قربانی کے
پڑھیں:
سی پیک اتھارٹی کی بلٹ پروف گاڑی خریدنے کی منظوری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) سیکریٹریٹ نے چینی شہریوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 95 ملین (9 کروڑ 50 لاکھ) روپے کی لاگت سے ایک بلٹ پروف گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ اس کے مطابق کابینہ ڈویژن اس کی فوری ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھی جس کی وجہ سے اہم سرکاری مصروفیات منسوخ کرنا پڑیں۔
یہ نئی ٹویوٹا لینڈ کروزر 3500 سی سی گاڑی پہلے سے موجود ایسی گاڑیوں کے پول اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جو مختلف سرکاری محکموں نے حملوں کی زد میں آنے والے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے یا تو خریدی ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔ زیادہ خطرات کی وجہ سے چینی شہریوں کو بغیر بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے کہا کہ یہ بلٹ پروف گاڑی صرف چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے خریدی جا رہی ہے، جن کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
الخدمت فاؤنڈیشن کا بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی اجلاس، ملک بھر میں 46 ایمرجنسی رسپانس سینٹرز قائم
حکومت پبلک پروکیورمنٹ رولز کے رول 42-سی (vii) کا نفاذ کرتے ہوئے مقامی اسمبلر کے ڈیلر سے براہ راست معاہدے کے ذریعے یہ گاڑی خریدے گی۔سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی خریدنے کے لیے مطلوبہ فنڈز موجود نہیں تھے۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 58.3 ملین روپے منتقل کرکے 30 جون تک آرڈر دینے کا انتظام کیا تھا۔ تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوریوں میں تاخیر کی وجہ سے آرڈر نہیں دیا جا سکا۔
مزید :