مری؛ سرکاری اسپتال کی ڈاکٹر کے ساتھ مری کے نجی ہوٹل میں زیادتی، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
MURREE:
گورنمنٹ ٹی بی اسپتال کی خاتون ڈاکٹر کو مری کے نجی ہوٹل میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تاہم پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گورنمنٹ ٹی بی اسپتال میں تعینات خاتون ڈاکٹر سے مری کے نجی ہوٹل میں زیادتی کی گئی تاہم پولیس نے تھانہ مری میں مقدمہ درج کیا اور ملزم اسد خان کو گرفتار کر لیا ہے۔
مری پولیس کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق زیادتی کرنے والا ملزم اسد خان نے خود کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا مشیر ظاہر کیا، ملزم پہلے اسپتال گیا جہاں سیکیورٹی گارڈز سے گالم گلوچ کی اور خاتون ڈاکٹر کو اپنی بیوی ظاہر کر کے زبردستی اسپتال سے لے گیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ نامزد ملزم اسد خان نے سنی بینک سے قریب نجی ہوٹل میں لیڈی ڈاکٹر کو رات بھر زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزم اسد خان نے اس سے پہلے بھی لاہور میں خاتون ڈاکٹر سے زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی۔
مقدمے میں مزید کہا گیا کہ ملزم اسد اور خاتون ڈاکٹر خانیوال کے ایک ہی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور خاتون ڈاکٹر کو پہلے مختلف اسپتالوں میں نوکری کا جھانسہ دیا کہ میں تعیناتی کروا دوں گا۔
متن کے مطابق لیڈی ڈاکٹر کی مری ٹی بی سینٹوریم اسپتال میں تعیناتی میرٹ پر ہوئی اور ان کی مری اسپتال میں تعیناتی کو صرف دو دن ہوئے تھے۔
پولیس نے کہا کہ اسد خان نامی شخص اہم سرکاری عہدہ رکھنے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، ملزم اسد خان جعلی سرکاری افسر اور خود کو مشیر ظاہر کرتا رہا ہے۔
پولیس نے مزید کہا تھا کہ ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نجی ہوٹل میں خاتون ڈاکٹر ڈاکٹر کو پولیس نے کے مطابق
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک