صیہونی حکومت نے غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے بہانے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے جس کا مقصد اپنی فوج کو امداد کی تقسیم کا ذمہ دار بنانا ہے یہ منصوبہ، جسے اونروا کے سربراہ نے فوجی مقاصد کے لیے تیار کردہ قرار دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی حکومت نے غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے بہانے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے جس کا مقصد اپنی فوج کو امداد کی تقسیم کا ذمہ دار بنانا ہے؛ یہ منصوبہ، جسے اونروا کے سربراہ نے فوجی مقاصد کے لیے تیار کردہ قرار دیا ہے۔ فارس کے مطابق، اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (اونروا) کے کمشنر فیلیپ لازارینی نے ہفتے کے روز زور دے کر کہا کہ صیہونی حکومت کا تجویز کردہ امدادی منصوبہ ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔ لازارینی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ماڈل کامیاب ہوگا؛ یہ ماڈل بظاہر حقیقی انسانی ہمدردی پر مبنی نہیں بلکہ زیادہ تر فوجی مقاصد کی تکمیل کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ کوئی بھی انسانی ہمدردی کی تنظیم جو اصولوں کا احترام کرتی ہو، ایسے منصوبے کی پابند نہیں ہو سکتی۔

صیہونی حکومت ایک متبادل نظام نافذ کرنا چاہتی ہے جس کے ذریعے امدادی مراکز کے ذریعہ انسانی امداد تقسیم ہو، جو فوج کے کنٹرول میں ہوں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی ان مراکز پر گرفت سے بہت سے افراد، خصوصاً بیمار اور بزرگ، امداد تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ عالمی ادارہ خوراک (WFP) نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر انسانی امداد غزہ پہنچانے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو تقریباً دو ملین افراد شدید بھوک اور قحط کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

غزہ میں حماس کی حکومت کے اطلاعاتی دفتر نے کچھ دیر پہلے اعلان کیا کہ بین الاقوامی مطالبات کے باوجود، اسرائیل اب بھی خوراک، ادویات اور ایندھن کی امداد کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے، جس کے باعث اسپتال اور نانبائیاں تقریباً بند ہو چکی ہیں اور شہریوں کی بقا کو خطرہ لاحق ہے۔ اس فلسطینی ادارے کا کہنا ہے کہ لاکھوں ٹن امدادی سامان غزہ کے باہر ذخیرہ ہو چکا ہے اور وہ جلدی خراب ہو جائے گا کیونکہ مہینوں سے اس کی منتقلی کی اجازت نہیں دی گئی۔ جب کہ غزہ کے شہری قحط اور سنگین انسانی بحران سے گزر رہے ہیں۔ گزشتہ 84 دنوں میں، کم از کم 46,200 ٹرکوں پر مشتمل امداد اور ایندھن کو غزہ میں داخل ہونا چاہیے تھا۔ اسرائیل دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے امداد کی اجازت دی ہے، لیکن حماس کے دفتر کے مطابق، ابھی صرف 100 ٹرک، یعنی غزہ کی بنیادی ضروریات کا ایک فیصد سے بھی کم، علاقے میں داخل ہو پایا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امداد کی تقسیم صیہونی حکومت کے لیے

پڑھیں:

میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید

گلوکارہ طاہرہ سید نے اپنے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر تردیدی بیان جاری کر دیا۔گلوکارہ کاکہناتھا کہ میں بالکل ٹھیک ٹھاک اور صحت مند ہوں ۔ تفصیلات کے مطابق گلوکارہ طاہرہ سید کے انتقال کے حوالے سے خبر جھوٹی اور افواہ ہے جو سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی تھی۔ طاہرہ سید کاکہنا ہے کہ وہ امریکا میں بالکل خیریت سے ہیں اور صحت مند ہیں۔ انہوں نے خود ویڈیو بیان میں ان افواہوں کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "میری صحت کے بارے میں افواہ پھیلائی گئی ہے، میں بالکل صحت مند ہوں"۔ یادرہے کہ طاہرہ سید (ولادت 1958ء لاہور) پاکستان کی مشہور غزل اور لوک گلوکارہ ہیں، جن کی آواز آج بھی مقبول ہے،وہ ملکہ پکھراج کی بیٹی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے