’ٹائٹن آبدوز‘ کے دلخراش سانحے پر بنی دستاویزی فلم ریلیز کےلیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
جون 2023 کا وہ المناک واقعہ جب ٹائٹن نامی آبدوز بحرِ اوقیانوس کی گہرائیوں میں پھٹ گئی تھی، اب ایک نئی دستاویزی فلم کی شکل میں سامنے آنے والا ہے۔
بحرِ اوقیانوس کی تاریک گہرائیوں میں تباہ ہونے والی آبدوز ’ٹائٹن‘ کی حقیقی کہانی پر مبنی نیٹ فلکس کی نئی دستاویزی فلم ’ٹائٹن: دی اوشین گیٹ ڈیزاسٹر‘ ریلیز کےلیے تیار ہے۔
یہ وہی المناک حادثہ ہے جو جون 2023 میں پیش آیا تھا، جب اوشین گیٹ کمپنی کی ذاتی ملکیت میں بنائی گئی آبدوز سمندر کی تہہ میں ٹائٹینک کے ملبے تک پہنچنے کی مہم کے دوران تباہ ہوگئی۔ اس ہولناک سانحے میں پانچ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں پاکستان کے معروف صنعتکار شہزادہ داؤد اور ان کے نوجوان بیٹے سلیمان داؤد بھی شامل تھے۔
دستاویزی فلم کا پریمیئر 6 جون کو ٹریبیکا فلم فیسٹیول میں کیا جائے گا، جبکہ نیٹ فلکس صارفین اسے 11 جون سے دیکھ سکیں گے۔ اس پراجیکٹ کی ہدایتکاری مارک مونرو نے کی ہے اور اسے معروف ’اسٹوری سنڈیکیٹ‘ ٹیم نے تخلیق کیا ہے، جو اس سے قبل ’ٹیک کیئر آف مایا‘ اور ’گون گرل‘ جیسے کامیاب منصوبوں کا حصہ رہ چکی ہے۔
فلم میں آبدوز تباہی کے اسباب اور اس کے پیچھے موجود محرکات کو انٹرویوز، آڈیو ویژول فوٹیجز اور چشم دید گواہیوں کی مدد سے اجاگر کیا گیا ہے۔ خصوصی طور پر اوشین گیٹ کے بانی اور سی ای او اسٹاکٹن رش کے خواب، خطرات سے کھیلنے کی روش اور شہرت کے پیچھے دیوانگی کو موضوع بنایا گیا ہے۔
ایک انٹرویو میں کہا گیا کہ ٹائٹن آبدوز کی ناکامی کا وقت معلوم کرنا ممکن تو نہیں تھا، لیکن یہ ریاضیاتی طور پر طے تھا کہ وہ کسی نہ کسی دن ضرور ناکام ہوگی۔ ایک اور تبصرے میں رش کو ’’ذہنی مریض‘‘ تک قرار دیا گیا اور سوال اٹھایا گیا کہ ایک ایسی کمپنی کے مالک کو کون روک سکتا ہے جو خود کو ہر فیصلے سے بالاتر سمجھتا ہو؟
یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ رش کو صرف شہرت درکار تھی، ایک ایسا ایندھن جو اس کی انا کو مسلسل جلاتا رہتا۔ ٹریلر میں رش کی اپنی آواز بھی شامل ہے، جس میں وہ کہتا ہے، ’’مجھے موت کی خواہش نہیں، میں خطرے کو سمجھتا ہوں۔ میری نگرانی میں کوئی نہیں مرے گا‘‘۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوئی۔
یاد رہے، یہ واقعہ 18 جون 2023 کو اس وقت پیش آیا جب ٹائٹن آبدوز سمندر کی گہرائیوں میں جارہی تھی۔ چار دن بعد، 22 جون کو آبدوز کی تباہی کی تصدیق ہوئی، جس کے ساتھ ہی وہ بین الاقوامی ریسکیو مشن ختم ہوا جو دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
یہ فلم صرف ایک سانحے کی کہانی نہیں، بلکہ انسانی تجسس، بے قابو خوابوں اور خطرات سے کھیلنے کی قیمت کا وہ آئینہ ہے جس میں ہم سب جھانک سکتے ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دستاویزی فلم
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.