مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول کراچی کیلئے کوئی بڑا پیکج لے کر آئیں: مرتضیٰ وہاب
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
----فائل فوٹو
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول کابینہ میں ہیں، انہیں چاہیے کوئی بڑا پیکج کراچی کے لیے لے کر آئیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ پر کام ہم نے کیا اور کام جاری ہے، ڈینسو ہال کی یہ عمارت 139 سال پرانی ہے، یہاں اس شہر کی پہلی عوامی لائبریری تھی، 1886ء میں انگریزوں نے عوام کے لیے یہ لائبریری بنائی تھی، 1980ء میں اس عمارت کو عوام کے لیے بند کر کے آفس بنا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میکس ڈینسو کے نام سے اس عمارت کا نام رکھا گیا، بدبختی ہے اس کو سرکاری دفتر میں تبدیل کر کے بچوں سے یہ لائبریری چھین لی گئی، 2007ء میں کے ایم سی نے اس عمارت کو نجی پارٹی کو دے دیا، 2007ء سے 2023ء تک یہ عمارت عوام کے لیے مکمل بند رہی تھی۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ اگلے سال مزید 300 اسکیمیں مکمل کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایم اے جناح روڈ پر ٹرپل پارکنگ ہوتی ہے ایک پیسا کے ایم سی کو نہیں ملتا، شہر میں پارکنگ کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے، چاہتا ہوں ایم اے جناح روڈ پر سنگل لین پارکنگ ہو، شہری کسی اور ملک میں جا کر ٹریفک قوانین پر عمل کرتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں۔
میئر کراچی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی والے اپنے ٹاؤن میں پارک بند کر کے یونیورسٹی کو دے دیتے ہیں، جماعت اسلامی والے اپنی سوچ کے ساتھ چلتے رہیں میں ہر جماعت کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ ہم عید الاضحیٰ کے بعد نالوں کی صفائی کا کام شروع کردیں گے، عید الاضحیٰ کے دوران مختلف علاقوں میں 100 کلیکشن پوائنٹس بنائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.