پاکستان بزنس فورم کا حکومت سے خطے کی صورتحال کے پیش نظر گروتھ بجٹ لانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
پاکستان بزنس فورم کا حکومت سے خطے کی صورتحال کے پیش نظر گروتھ بجٹ لانے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 25 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے کی موجودہ غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر آئندہ بجٹ کو کاروبار دوست اور معاشی بحالی پر مرکوز رکھا جائے۔بزنس فورم کے صدر خواجہ محبوب الرحمان نے کہا کہ بجٹ میں محض ریونیو اہداف کے حصول کے بجائے معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے۔
خواجہ محبوب الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ بجٹ میں مزید ٹیکسز عائد کیے گئے تو ملک کو معاشی سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان بزنس فورم کے مطابق حکومت یکم جولائی سے پیٹرولیم لیوی کو 100 روپے فی لیٹر تک بڑھانے اور بجلی پر مزید ٹیکسز لگانے کا ارادہ رکھتی ہے، جو کاروباری سرگرمیوں کو مزید محدود کر دے گا۔فورم نے انکشاف کیا کہ حکومت ٹیکس اہداف میں 2ہزار ارب روپے کے اضافے پر غور کر رہی ہے، جو موجودہ معاشی حالات میں کاروباری طبقے پر بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔پاکستان بزنس فورم نے زور دیا کہ 10 جون کو پیش کیا جانے والا بجٹ کاروباری ماحول کو سہارا دینے والا اور مہنگائی سے نجات دلانے والا ہونا چاہیے۔ فورم نے بجٹ میں مزید نئے ٹیکسز سے گریز کرنے اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی تجویز دی ہے تاکہ وسائل دفاع اور معاشی بحالی پر مرکوز کیے جا سکیں۔
بزنس فورم کے مطابق وزارتِ خزانہ کو سمجھنا چاہیے کہ موجودہ حالات غیر معمولی نوعیت کے ہیں، اور قوم اور افواج مزید مہنگائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔فورم نے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ تاجروں پر ماہانہ بنیاد پر فکسڈ ٹیکس عائد کیا جائے تاکہ براہ راست ٹیکسوں میں اضافہ ممکن ہو، انڈسٹری کو کارپوریٹ ٹیکس میں ریلیف دیا جائے، اور بینکوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ایس ایم ای سیکٹر کو فنانسنگ فراہم کریں۔اس کے علاوہ، کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے کھادوں پر جی ایس ٹی کی شرح کو کم کرکے ایک فیصد کیا جائے۔ بزنس فورم کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ بھارت کی جارحانہ ڈاکٹرائن کو ایک موثر معاشی جواب دینے کا بہترین موقع بن سکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنیب کی 88ارب روپے سے زائد کی وصولیاں، 86ارب اداروں کو واپس نیب کی 88ارب روپے سے زائد کی وصولیاں، 86ارب اداروں کو واپس قیدیوں کے تبادلے کے بعد روس کا یوکرین پر بڑا حملہ، 12 ہلاک، درجنوں زخمی عمران خان نے کہا ہے اسٹیبلشمنٹ بات کرنا چاہتی ہے تو براہ راست ان سے کر لے،رہنما پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر وزیراعلی پنجاب نے برسوں سے رائج برتھ اور ڈیتھ رجسٹریشن فیس ختم کردی گزشتہ 2سالوں میں پاکستان کا ریونیو تقریبا دگنا ہوگیا، آئی ایم ایف پاکستان کوفیٹف کی گرے لسٹ میں شامل کروانے کی بھارتی سازش بے نقابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان بزنس فورم
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔