شہباز شریف آج صدر اردوان اور ترکیہ سے اظہار تشکر کیلئے استنبول پہنچ رہے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف آج صدر اردوان اور ترکیہ سے اظہار تشکر کے لیے استنبول پہنچ رہے ہیں۔
شہباز شریف 25 سے 30 مئی 2025 تک ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کا دورہ کریں گے اور ان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات، علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے معاملات پر وسیع پیمانے پر بات چیت کریں گے۔
وزیراعظم اپنے دورے کا آغاز ترکیہ سے کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے موقع پر ترکیہ کی جانب سے پاکستان کی کھل کر دو ٹوک الفاظ میں حمایت اور مدد کرنے پر صدر اردوان اور ترکیہ کا شکریہ ادا کریں گے۔
ترکیہ کے پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا عملی مظاہرہ نا صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ دیگر ممالک کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسلام آباد وزیر اعظم محمد شہباز شریف آج 25 سے 30 مئی.
ترکیہ نے نا صرف سیاسی سطح پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی بلکہ ممکنہ جنگی حالات کے پیشِِ نظر بروقت دفاعی ساز و سامان کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اس اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا عملی مظہر ہے، جو وقت کے ہر امتحان میں ثابت قدم رہا ہے۔
صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے ہر محاذ پر پاکستان کا ساتھ دینے کا عزم دہرایا جو دوستی، اخوت، اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ میں ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاع، معیشت اور ثقافت سمیت مختلف شعبہ جات میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
خاص طور پر دفاعی میدان میں باہمی انحصار کو فروغ دینا، مشترکہ مشقیں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے اہم امور زیرِ غور آئیں گے۔
یہ اقدامات ناصرف دونوں ملکوں کی سلامتی کو تقویت بخشیں گے بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی بہتر انداز میں قائم رکھنے میں مددگار ہوں گے۔
ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات محض دو ریاستوں کے درمیان رسمی روابط نہیں بلکہ یہ دلوں کے رشتے، تاریخی قربانیوں اور دینی و تہذیبی ہم آہنگی پر استوار ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہِ تشکر ان رشتوں کو مزید مستحکم کرے گا اور برادرانہ تعلقات کی نئی راہوں کو ہموار کرے گا۔ یہ دورہ محض رسمی ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں بلکہ دو بھائیوں کے درمیان محبت، شکرگزاری اور آئندہ کے لیے نئی جہتوں کی تلاش کا مظہر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: صدر اردوان شہباز شریف پاکستان کے کے درمیان
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔