ڈیلس میں یومِ تشکر کی پروقار تقریب، قونصل جنرل اور ممتاز شخصیات کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
ڈیلس: شمالی ٹیکساس میں مقیم پاکستانی و کشمیری محبانِ وطن کے زیرِ اہتمام’’یومِ تشکر‘‘ کی ایک عظیم الشان تقریب ڈیلس، ٹیکساس میں منعقد ہوئی، جس میں ڈی ایف ڈبلیو کی ممتاز کمیونٹی شخصیات، سماجی رہنما اور قونصل جنرل پاکستان نے شرکت کی۔
تقریب کی صدارت معروف کمیونٹی لیڈر اور صدارتی تمغہ امتیاز یافتہ حفیظ خان نے کی جبکہ ہیوسٹن سے پاکستان کے قونصل جنرل آفتاب چوہدری نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
اپنے خطاب میں قونصل جنرل آفتاب چوہدری نے کہا کہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی، بالخصوص امریکا میں بسنے والے افراد، وطن سے اپنی محبت اور افواجِ پاکستان پر اپنے اعتماد کا بھرپور اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی جارحیت کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور پاکستانی پرچم تلے ہم سب ایک ہیں۔
انہوں نے بھارت کے کشمیر پر قبضے، وہاں موجود نو لاکھ فوج، اور مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر حقائق سے انکار اور سفارتی چالاکی کا سہارا لیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں دہشت گردی کے واقعات کا الزام پاکستان پر عائد کرنا ناانصافی اور غیر حقیقت پسندانہ رویہ ہے۔
آفتاب چوہدری نے کہا کہ بھارت مسلسل انڈس واٹر ٹریٹی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ پانی روکنا بھی جنگ کے مترادف ہے۔ قدرت کے اصولوں کو روکنے کی کوشش خونریزی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
آفتاب چوہدری نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی، افواجِ پاکستان کی کامیابی اور دشمن کی پسپائی پر اللّٰہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ تقریب میں دکھائی گئی ڈاکومنٹری میں بھارتی عزائم کو واضح کیا گیا، جس میں خضدار میں بچوں پر حملہ اور ٹرین پر دہشتگردی جیسے واقعات کو نمایاں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کی اسپانسرڈ دہشتگردی کا مقابلہ کریں گے اور دشمن کو بھرپور جواب دیں گے، کیونکہ بھارت آج بھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کرتا۔
کمیونٹی لیڈر حفیظ خان( تمغہ امتیاز) نے کہا کہ پاکستانی تارکینِ وطن کو اپنی افواج پر فخر ہے جو ہر جارحیت کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، اور یہ صلاحیت حالیہ واقعات میں ثابت بھی ہوئی ہے۔
ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ کے صدر امیر مکھانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت نے جنگ چھیڑ کر دو گھنٹوں میں معافی مانگ لی، اب وقت ہے کہ برطانیہ کی چھوڑی ہوئی تقسیم کے مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ انہوں نے جنرل عاصم منیر سے اپیل کی کہ ملک کے اندر بھی سیاسی سیزفائر کا آغاز کریں تاکہ قومی یکجہتی مضبوط ہو۔
سابق صدر پاکستان سوسائٹی عابد ملک نے کشمیری عوام کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
غزالہ حبیب نے کہا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی اور کشمیری، پاکستان سے دلی وابستگی رکھتے ہیں اور عالمی سطح پر اس محبت کا پرجوش اظہار کرتے رہیں گے۔
پروگرام کے اختتام پر پاکستان سے آئے معروف گلوکار عزیز وارثی نے قومی و ملی نغمے پیش کیے، جن پر شرکاء جھوم اٹھے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا فتاب چوہدری نے نے کہا کہ کہ بھارت
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب