لاہور میں قومی طلبہ کانفرنس سے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا کہ عالم اسلام غزہ کے مجاہدین کے جذبہء جہاد اور بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے مظلوم مسلمانوں کی ہر ممکن طریقے سے  مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم حکمرانوں کو قرادادوں اور مطالبات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہونگے، عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا، مشرق وسطیٰ میں بدلتے سیاسی و علاقائی حالات خوفناک ہیں، تمام مسلم ممالک کو ریاستی طور پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرنی ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ انجمن طلبہ اسلام کے زیراہتمام قومی طلبہ کانفرس سے مرکزی صدر مبشر حسین، پنجاب اسمبلی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد عاکف طاہر، سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں خالد حبیب الہی، سیکریڑی جنرل فیضل قیوم ماگرے، ضیاء الامت فاؤنڈیشن کے کنٹری ہیڈ جعفر ماجد اعوان اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم حکمران خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں، فلسطین اور بھارت کی سنگین صورتحال پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے، او آئی سی مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائے، عالمی دہشتگرد اسرائیل کی بیت المقدس پر فوج کشی شرمناک ہے، عالم اسلام غزہ کے مجاہدین کے جذبہء جہاد اور بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے مظلوم مسلمانوں کی ہر ممکن طریقے سے  مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم حکمرانوں کو قرادادوں اور مطالبات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہونگے، عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا، مشرق وسطیٰ میں بدلتے سیاسی و علاقائی حالات خوفناک ہیں، تمام مسلم ممالک کو ریاستی طور پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرنی ہوگی۔

مقررین نے کہا آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی پر پاک فوج اور پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے، پاکستان کی فتح نے دنیا بھر میں طاقت کا توازن بدل ڈالا ہے، بھارت بزدلانہ کارروائی کی شرمندگی ہمیشہ یاد رکھے گا، پوری قوم دفاع وطن کے جہاد میں افواج پاکستان کیساتھ ہے، دفاع وطن کی خاطر شہید ہونیوالے قوم کی آنکھ کا تارا ہیں، آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر پوری قوم سپہ سالار جنرل حافظ عاصم منیر اور پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، پاک فوج کی قربانیاں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا ہے، پاک فوج نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا یے۔ انہوں نے مزید کہا بلوچستان میں دہشتگردی بھارت سے اسپانسرڈ ہے، پاکستان میں دہشتگردی کا اصل سرپرست بھارت ہے، بزدل دشمن زخم چاٹ رہا ہے، دہشتگردی کے نام پر دشمن قوم کے معماروں کی جانوں سے کھیل رہا ہے، بندوق اور بارود کی زبان میں بات کرنیوالوں کیخلاف ریاستی طاقت کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، دہشتگردوں کو ملک دشمن طاقتیں استعمال کر رہی ہیں۔

مقررین نے کہا کہ بے گناہ مسلمانوں اور معصوم انسانوں کو قتل کرنا فساد فی الارض اور بہت بڑا فتنہ ہے، پوری قوم دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کیساتھ ہے، حکومت خضدار کی خونی سازش میں ملوث تمام مکروہ کرداروں کو فوری بے نقاب کرے۔اسلام میں خودکش حملے حرام اور بدترین جرم ہے، بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغی ہیں، مسلم ریاست کیخلاف مسلح بغاوت کرنیوالوں کو کچلنا حکومت پر لازم ہے، دہشتگردوں کیخلاف جہاد میں حکومت سے تعاون ہر شہری کا فرض ہو چکا ہے، قومی طلبہ کانفرس سے سردار بیدار اعوان، محسن ریاض گوندل، حافظ تنویر عباس، جواد خاں لودھی، مبشر منظور سلطانی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عالم اسلام نے کہا کہ پوری قوم انہوں نے پاک فوج

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار