ریلوے سسٹم میں سلیک پریڈ، مسافروں کی کمی پر 2 ٹرینیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
سٹی42: پاکستان ریلوے کو مسافروں کی کمی کے باعث لاہور سے کراچی جانے والی دو اہم ٹرینیں بزنس ایکسپریس اور شاہ حسین ایکسپریس منسوخ کرنا پڑیں۔
ریلوے حکام کے مطابق متاثرہ مسافروں کو پریشانی سے بچانے کیلئے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔ بزنس ایکسپریس کے مسافروں کو کراچی ایکسپریس میں منتقل کر دیا گیا ہے جو شام 6 بجے اپنے مقررہ وقت پر لاہور سے کراچی کے لیے روانہ ہوگی۔
اسی طرح شاہ حسین ایکسپریس کے مسافروں کو گرین لائن ایکسپریس میں اکاموڈیٹ کیا گیا ہے جو رات 8 بج کر 50 منٹ پر لاہور سے کراچی کے لیے روانہ ہوگی۔
غزہ:اسرائیلی بمباری سےفلسطینی خاتون ڈاکٹر کے 9 بچے شہید
ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مسافروں کی غیر معمولی کمی کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور دیگر ٹرینوں میں گنجائش ہونے کے باعث فوری متبادل فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی زحمت نہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مسافروں کو
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔