کراچی میں پانی کا بحران سنگین ہوگیا، مختلف علاقوں میں 25 دن سے فراہمی متاثر
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
کراچی:
شہر میں پانی کا بحران سنگین شکل اختیارکر گیا اور مختلف علاقوں میں 25 دن سے پانی کی فراہمی شدید متاثر ہے جبکہ شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے سخی حسن ہائیڈرنٹ بند کرادیا۔
کراچی میں پانی کا بدترین بحران ہے جس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہے اور متعدد علاقوں میں 25 دن سے پانی کی فراہمی بند ہے جس کی وجہ سے شہری مہنگے داموں ٹینکرز خرید کر اپنی ضروریات پوری کرر ہے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں کورنگی، لانڈھی، گلشن اقبال،جمشید روڈ، لیاقت آباد، ناظم آباد، دستگیر، ایف بی ایر یا کے مختلف بلاکس، بلد یہ ٹاون سمیت دیگر علاقے شامل ہیں جہاں پانی کی شدید قلت ہوگئی ہے۔
دوسری جانب گھارو پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کا بریک ڈاون ہوا ہے اور ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق ہفتے کی صبح بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا جس کی وجہ سے شہر کو تین کروڑ گیلن پانی فراہم نہیں کیا جا سکا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہوگی، جن میں بن قاسم، پورٹ قاسم ٹاؤن، شاہ فیصل ٹاؤن ، پی این سی مہران اور پی اے ایف بیس فیصل میں پانی کی فراہمی متاثر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ نیپا پمپنگ اسٹیشن پر کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہی ہے جس کی وجہ سے گلشن اقبال میں پانی کی فراہمی بری طرح متاثرہوئی۔
اطلاعات کے مطابق این ای کے پمپنگ اسٹیشن پر بھی بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سےپانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
ضلع وسطی میں پانی کے ستائے شہریوں نے سخی حسن ہائیڈرنٹس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ہائیڈرنٹ بندکر دیا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہو ئے تھے جس میں نعرے درج تھے کہ ضلع وسطی کو پانی دیا جا ئے، مظاہرے میں رکن سندھ اسمبلی جمال احمد بھی شریک تھے۔
احتجاج میں شریک شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی دن ہو گئے ہیں، ہمارے علاقے میں پانی نہیں آرہا ہے جبکہ ہائیڈرنٹ سے پانی کی فراہمی جا ری ہے۔
مظاہرین نے دونوں سڑکوں کو بند کرکے احتجاج کیا، جس کی وجہ سے سخی حسن ہائیڈرنٹ سے پانی کی فراہمی کئی گھنٹوں تک بند رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں پانی کی فراہمی سے پانی کی فراہمی مختلف علاقوں میں فراہمی متاثر جس کی وجہ سے
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔