مسلمانوں کے گھروں کی مسماری کیخلاف بھارتی ہندو مودی سرکار پر پھٹ پڑے
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
بھارتی مسلمانوں کے گھروں کی مسماری کے خلاف بھارتی ہندو بھی بول پڑے اور انہوں نے مودی سرکار کی ہندوتوا انتہا پسندانہ پالیسی پر شدید الفاظ سے تنقید کی ہے۔
پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے خلاف شروع کی گئی ریاستی کارروائیوں پر بھارت میں غیر معمولی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مودی حکومت نے واقعے کا جھوٹا الزام لگا کر نہ صرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا بلکہ ان کے گھروں کی مسماری اور جبری گرفتاریوں کے ذریعے اپنی انتقامی سیاست کو ہوا دی۔
اس ظالمانہ روش پر اب خود بھارتی ہندو بھی آواز بلند کر رہے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دے کر ان پر ریاستی جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ان کے گھر گرا کر انہیں جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔
پہلگام واقعے کے بعد بھارتی ریاستی اداروں نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا اور سیکڑوں افراد کو کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
اس غیر انسانی سلوک پر مختلف بھارتی ہندوؤں نے بھی کھل کر تنقید کی ہے۔ بھارتی خاتون سنیتا سنگھ اور دیگر مقامی افراد نے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
ایک شہری نے کہا کہ مودی سرکار خود دہشتگرد ہے، مسلمان بہت اچھے ہیں، ان کو ویسے ہی دہشتگرد بنایا جا رہا ہے۔ ایک اور بھارتی شہری نے کہا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا، مشکل وقت میں ہماری مدد کی، آج ان کو دہشتگرد کہا جا رہا ہے۔
بھارتی شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ مودی حکومت نے نہ صرف مسلمانوں کے خلاف جھوٹے الزامات لگائے بلکہ انہیں کوئی قانونی مہلت دیے بغیر ان کو بے گھر کردیا۔ ہم مسلمانوں کے گھروں میں آتے جاتے تھے، یہ نفرت صرف مودی سرکار نے پھیلائی ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے خلاف کی گئی یہ کارروائیاں دراصل مودی سرکار کی سوچی سمجھی منصوبہ بند انتقامی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دینا مودی حکومت کی سیاسی بقا اور ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کا ہتھکنڈا بن چکا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ طرز عمل نہ صرف بھارت کے سیکولر تشخص کے خلاف ہے بلکہ ملک کے اندر فرقہ واریت کو مزید ہوا دے رہا ہے، جس کے خطرناک نتائج بھارت کو مستقبل میں بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسلمانوں کے گھروں مودی سرکار مودی حکومت کے خلاف رہا ہے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :