فرانسیسی صدر کو غیرملکی دورے کے دوران اہلیہ نے تھپڑ رسید کردیا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
فرانس کے صدر ایمانول میکرون کو غیرملکی دورے کے دوران اہلیہ نے تھپڑ رسید کردیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کے صدر ایمانول میکرون ویتنام کے دورے پر ہیں۔ اس دوران جب وہ جہاز سے اترنے والے تھے تو اہلیہ نے انہیں تھپڑ رسید کردیا۔
French President Emmanuel Macron’s office downplayed an incident in which his wife, Brigitte, appeared to push his face away as he arrived in Vietnam to begin a Southeast Asian tour.
— Sky News (@SkyNews) May 26, 2025
فرانسیسی صدر کو اہلیہ کی جانب سے تھپڑ مارنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تھپڑ کھانے کے بعد جب جہاز سے اترتے ہوئے صدر میکرون نے بازو آگے بڑھایا تو ان کی اہلیہ نے بازو تھامنے سے بھی گریز کیا۔
فرانسیسی حکام نے پہلے واقعے کو غلط قرار دیا تاہم ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کہا جارہا ہے کہ یہ مذاق میں کی گئی ایک حرکت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اہلیہ ایمانول میکرون تھپڑ رسید فرانسیسی صدر وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اہلیہ ایمانول میکرون تھپڑ رسید وی نیوز تھپڑ رسید اہلیہ نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔