پاکستان کیخلاف جارحیت، بھارتی ماہرین شکست تسلیم کرنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان کیخلاف بلاجواز جارحیت پر بھارتی حکومت پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔
بھارتی میڈیا میں پاکستان کیخلاف جارحیت اور بھارتی فوج کی ناکامی پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی دفاعی تجزیہ کار پرواین سواہنے نے ایک بار پھر بھارتی مہم جوئی کو غلط قرار دے دیا۔
ایک ٹی وی پروگرام میں اینکر ارفع خانم شیرازی کے سوال پر پراوین سواہنے نے کہا کہ ہم پاکستان کیخلاف حملہ کرکے کچھ بھی حاصل نہیں کرپائے اور اس سے ہماری بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
پراوین سواہنے نے کہا کہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہم نے ایک بحران کے اندر اپنی کیا فوجی طاقت دکھائی؟، بالاکوٹ میں بھی فضائیہ کا استعمال غلط تھا اس وقت تو انہیں پتہ بھی نہیں تھا کہ ہم یہ کر رہے ہیں۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ اس بار تو وہ (پاکستان) آپ کے فضائی حملوں کیلئے مکمل تیار تھے، اگرآپ حملے کیلئے جا رہے ہیں تو اس کیلئے فوجی اہداف ہونے چاہئیں، فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہئے تھا وہ بنایا نہیں، دہشتگردی کے کیمپ ملٹری ہدف نہیں ہیں۔
پراوین سواہنے نے کہا کہ 7 مئی کی صبح پاکستان کے ایئر مارشل اورنگزیب نے شواہد سے بتایا کہ 5 بھارتی طیارے مار گرائے ہیں، ہمارے ایئرمارشل سے جب سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ جنگ میں نقصان تو ہوتے ہی ہیں۔
پراوین سواہنے کا کہنا تھا کہ اگر آپ وضاحت پوری نہیں دینگے تو پھر جو دوسری سائیڈ (پاکستان) دعویٰ کرتی ہے اسے دنیا مانتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہہ دیا تھا کہ اب ہم جواب دینگے، یہ خبریں بھی آئیں کہ اجیت ڈوول نے فوری طوپر امریکی سٹیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو سے بات کی، سعودی عرب، جاپان حتیٰ کہ چینی وزیرخارجہ سے جے شنکر تک نے رابطہ کیا۔ اگر بھارت لڑائی کیلئے تیار نہیں تھا تو اسے یہ غلطی کرنا ہی نہیں چاہئے تھی،
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پراوین سواہنے کے خیالات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ماہرین بھارتی شکست تسلیم کر چکے ہیں، بھارتی جارحیت بھارت کی کمزور جنگی حکمت عملی کی نشاندہی کر رہی ہے، پراوین کی گفتگو سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیزفائر کیلئے بھارت خود امریکا کے پاس گیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کیخلاف پراوین سواہنے سواہنے نے نے کہا کہ
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔