وزیر خزانہ گلگت بلتستان انجینئر محمد اسماعیل کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز کے ساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حق ملکیت اور حق حاکمیت کا نعرہ پیپلز پارٹی کا تھا، جسے لینڈ ریفارمز بل کے ذریعے عملی جامہ پہنایا گیا۔ بل میں خامیاں ہوسکتی ہیں، تاہم ترامیم کے ذریعے انہیں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ رواں سال کا بجٹ بڑھانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، امید ہے کہ وفاق سے اچھی پیشرفت ہوگی۔ متعلقہ فائیلیںانجینئر محمد اسماعیل وزیر خزانہ گلگت بلتستان ہیں۔ انکا شمار جی بی کے سینیئر سیاستدانوں میں ہوتا ہے، مسلسل چار مرتبہ الیکشن جیتنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ محمد اسماعیل کا تعلق جی بی کے ضلع گانچھے کے علاقے مشہ بروم سے ہے۔ پیپلزپارٹی سے وابستگی ہے۔ گلگت بلتستان میں خالد خورشید کی حکومت کے خاتمے کے بعد پیپلزپارٹی صوبائی حکومت کا حصہ بن گئی تو وہ وزیر خزانہ بن گئے۔ اسلام ٹائمز نے گلگت بلتستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ اور حال ہی میں اسمبلی سے پاس ہونیوالے زمینی اصلاحات کے بل (لینڈ ریفارمز ایکٹ) سے متعلق انکا انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔