شقی القلب باپ نے لاتوں اور مکوں سے تشدد کر کے اپنی ہی ڈیڑھ سالہ بچی کو مار ڈالا
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
راولپنڈی:
تھانہ چکلالہ کے علاقے میں دل دہلا دینے والا واقعہ، جہاں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔
پولیس نے مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، تاہم ملزم واقعے کے بعد اسپتال سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق بچی کی شناخت عنائیت فاطمہ کے نام سے ہوئی ہے۔ بچی کی والدہ آسیہ کوثر نے پولیس کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ اُس کا شوہر حسن اقبال آٹھ سال قبل دوسری شادی کے بندھن میں بندھا، اور ان کے چار بچے ہیں۔
مزید پڑھیں: شقی القلب باپ کا تین سالہ بیٹے پر ڈنڈوں سے وحشیانہ تشدد بچہ شدید زخمی
خاتون کے مطابق وہ لوگوں کے گھروں میں کام کرکے بچوں کی کفالت کر رہی ہیں۔
واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے آسیہ کوثر نے کہا کہ گزشتہ شام تقریباً چار بجے اُن کے شوہر نے بھائی کے فون سے رابطہ کیا اور اطلاع دی کہ بچی سیڑھیوں سے گر گئی ہے اور وہ فوری گھر آئیں۔
خاتون کے مطابق وہ جب تک گھر پہنچیں، حسن اقبال بچی کو لے کر اسپتال روانہ ہو چکا تھا۔ وہ اس کے پیچھے بینظیر بھٹو اسپتال پہنچیں جہاں بچی کی لاش سٹریچر پر موجود تھی۔ عنائیت فاطمہ کے جسم اور کانوں پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ جب اُنہوں نے شوہر سے سوال کیا تو وہ ایمرجنسی وارڈ سے فرار ہو گیا۔
مزید پڑھیں: لاہور میں شقی القلب والد نے 3 ماہ کے بیٹے کو قتل کردیا
دوسری جانب مقتولہ کی بڑی بہن ابیرہ نے انکشاف کیا کہ والد نے عنائیت فاطمہ کو لاتوں اور مکوں سے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔
مدعیہ کے مطابق ملزم ماضی میں بھی بچوں پر تشدد کرتا رہا ہے اور متعدد بار اہلِ خانہ کی جانب سے اسے روکا گیا، تاہم وہ باز نہ آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جا چکا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔