پارٹی بڑی تحریک کی تیاری کرے( ساری زندگی جیل میں رکھ لیں نہیں جھکوں گا، عمران خان)
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
جو بھی ٹارچر کرلیں غلامی تسلیم نہیں کروں گا، لوگوں کو اسلام آباد نہیں بلاؤں گا، پورے پاکستان میں تحریک چلائیں گیِ عام قیدی کے جو حقوق ہیں وہ بھی نہیں دئیے جارہے،بانی پی ٹی آئی
8 ماہ میں صرف ایک بار بچوں سے بات کرائی،جیل انتظامیہ کتابیں روک لیتی ہیں، بشریٰ بی بی کو مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے جیل میں رکھا گیا،علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ جو بھی ٹارچر کرلیں غلامی تسلیم نہیں کروں گا، ساری زندگی جیل میں بھی رکھ لیں نہیں جھکوں گا، پارٹی بڑی تحریک کی تیاری کرے۔علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بانی نے تین نکاتی پوائنٹس بھیجے ہیں، عمران خان نے کہا کہ عام قیدی کے جو حقوق ہیں وہ بھی نہیں دئیے جارہے، 8 ماہ میں صرف ایک بار بچوں سے بات کرائی ہیں، میری بہنوں کو ملاقات نہیں کراتے۔علیمہ خان نے کہا کہ ہم ان کو کتابیں پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جیل انتظامیہ کتابیں روک لیتی ہیں بانی کے ذاتی ڈاکٹرز سے چیک اَپ نہیں کرایا جارہا، توہین عدالت کی درخواستوں پر ججز کا حکم نہیں مانتے، عمران خان نے کہا جو بھی فرعونیت یا یزدیت کا نظام ہے جو بھی ٹارچر کرلیں میں غلامی تسلیم نہیں کروں گا۔علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کو مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے جیل میں رکھا گیا، ساری زندگی جیل میں بھی رکھ لیں نہیں جھکوں گا۔علیمہ خان نے کہا کہ یوٹیوبر کہتے ہیں بانی باہر نکلنے والے ہیں، ڈیل ہوگی، امریکن آگئے، اب سمجھ آرہی ہے کہ عوام کا ٹیمپریچر ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایسے وی لاگ بنائے جاتے ہیں۔علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے پارٹی کے لیے پیغام بھیجا ہے کہ یہ نظرئیے کی جماعت ہے بانی کے علاوہ بہت سے نوجوان جیل کاٹ رہے ہیں یہ الیکٹیبلز کی پارٹی نہیں ہے، یہ ہمیں نظرئیے کا ووٹ ملا ہے، میں نے سب پر نظر رکھی ہوئی ہے جو بھی اس نظرئیے کے ساتھ نہیں ہے ان کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے، جو ووکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں ان کی بھی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔علیمہ خان نے کہا کہ یہ باتیں کرتے وقت وہ غصے میں تھے اب ججز کا حال دیکھیں القادر کا کیس تین مہینے سے نہیں لگ رہا، 9 مئی اور دیگر ضمانتوں کے کیس بھی ہیں، ججز نے زبان دی کہ کیس لگادیں گے لیکن انھوں نے نہیں لگائے، عمران خان نے واضح کردیا ہے کہ پارٹی تیاری کرے بڑی تحریک کی، لوگوں کو اسلام آباد نہیں بلاؤں گا، پورے پاکستان میں تحریک چلائیں گے۔علیمہ خان نے کہا کہ ہم فیملی کے لوگ کل ہائی کورٹ جائیں گے ہم کہہ رہے ہیں ججز کو سپورٹ کریں گے،آج تمام ممبران اسمبلی پنجاب کے لاہور ہائی کورٹ جائیں گے اور یہاں تمام ایم این ایز اور پشاور کے ایم پی ایز ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ آئیں گے اور ہم ججز کو سپورٹ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے کہا نہیں ہے جیل میں کے لیے جو بھی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔