وزیر اعلیٰ مریم نواز کا شاہ پور کانجراں ماڈل کیٹل مارکیٹ کا دورہ، ملک کی سب سے بڑی مویشی منڈی کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے شاہ پور کانجراں میں ملک کی سب بڑی ماڈل کیٹل مارکیٹ کا افتتاح کردیا۔
وزیر اعلیٰ نے شاہ پور کانجراں ماڈل کیٹل مارکیٹ کا دورہ کیا اور دستیاب سہولتوں کا جائزہ بھی لیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ماڈل کیٹل مارکیٹ پراجیکٹ پر بریفننگ دی گئی۔
لاہور کی شاہ پور کانجراں ماڈل کیٹل مارکیٹ میں 25 ہزار بڑے جانور اور ڈیرہ لاکھ چھوٹے جانور کی گنجائش ہوگی، 74 ایکڑ رقبے پر قائم ماڈل کیٹل مارکیٹ میں مویشیوں کے لیے 20 بڑے شیڈ بنائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی کی مویشی منڈی کیسے روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے؟
ماڈل مارکیٹ میں پہلی مرتبہ جانوروں کے شیڈ میں پنکھے بھی لگائے گئے ہیں اور مویشیوں کو وبائی امراض سے بچانے کےلئے قرنطینہ سینٹر اور مویشیوں کے بیوپاریوں کے لیے 20 بڑے رہائشی کمرے بھی بنائے گئے ہیں۔
شاہ پور کانجراں ماڈل کیٹل مارکیٹ میں مسجد، واش روم، وٹرنری کلینک، ٹک شاپ، بنک اور اے ٹی ایم بھی ہوگی جبکہ مویشیوں کی نقل و حمل میں آسانی کے لیے لوڈنگ، ان لوڈنگ بے اور ٹرک سینٹر بھی موجود ہے۔
ماڈل کیٹل مارکیٹ میں وسیع پارکنگ، پولیس چوکی اور وسیع وعریض اوپن ایریا، اکشن بے اور جدید ترین سلاٹر ہاؤس بھی موجود ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کی دوسری بڑی ماڈل کیٹل مارکیٹ جھنگ میں بنائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی میں مویشی منڈی سج گئی، اس سال جانوروں کی قیمتیں کیا ہیں؟
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ماڈل کیٹل مارکیٹ پراجیکٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر شیلڈز بھی دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قربانی کے جانور کنجراں والا کیٹل مارکیٹ مال مویشی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: قربانی کے جانور کنجراں والا مال مویشی مریم نواز کے لیے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔