محبت میں ہار کر جیتنے کا تجربہ تو آپ کا ہو سکتا ہے ،جسٹس جمال مندوخیل کا وکیل سنی اتحاد کونسل کو مسکراتے ہوئے جواب
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی کیس میں سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے کہا کہ جی محبت میں ہار کر بھی جیتا جا سکتا ہے،دائر شدہ نظرثانی درخواستوں پر مجھے اعتراضات ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ محبت میں ہار کر جیتنے کا تجربہ تو آپ کا ہو سکتا ہے ۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی، دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ سنی اتحاد کونسل کی درخواست تو تمام13ججوں نے مسترد کی ہے،فیصلے سے متاثرہ تو سنی اتحاد کونسل تھی جس کی درخواست مسترد ہوئی،سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد ہوئی اور انہوں نے ہی نظرثانی دائر نہیں کی، وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ جی محبت میں ہار کر بھی جیتا جا سکتا ہے،دائر شدہ نظرثانی درخواستوں پر مجھے اعتراضات ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ محبت میں ہار کر جیتنے کا تجربہ تو آپ کا ہو سکتا ہے ۔
قربانی کیلئے لائے گئے اونٹ نے شہری کا ہاتھ چبالیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل سنی اتحاد کونسل محبت میں ہار کر سکتا ہے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔