Daily Ausaf:
2026-06-03@04:59:57 GMT

مولانا اورنگزیب فاروقی کا خط

اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT

22مئی کو اوصاف میں صحابہؓ و اہل بیتؓ کے عنوان سے شائع ہونے والا کالم اللہ کے فضل و کرم سے قارئین میں بے حد پسند کیا گیا، اور اکثر قارئین نے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھانے کی رائے بھی دی،جس سے اس خاکسار کو اندازہ ہوا کہ عوام، سیاست دانوں، حکمرانوں، اسٹیبلشمنٹ کی تعریف و تنقید کے کالموں سے اکتا چکے ہیں، صحابہ و اہل بیتؓ میرے آقا مولی ﷺ کے باغ کے وہ خوبصورت پھول ہیں کہ جن کی خوشبو سے زمانہ ساڑھے چودہ سو سال سے معطر ہے،صحابہ کرام ؓکی گواہی پہ پورے دین اسلام کی بنیاد استوار ہے۔ذیل میں ایک بہادر اور جرات مند عالم دین مولانا اورنگزیب فاروقی کا اس خاکسار کے نام لکھا گیا خط اس نیت سے مینارہ نور کی زینت بنا رہا ہوں کہ شائد کے اتر جائے کسی کے دل میں ہماری بات،مولانا فاروقی لکھتے ہیں کہ
’’محترم المقام ،برادر عزیز نوید مسعود ہاشمی اطال اللہ عمرک السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ازسلام مسنون خداوند حی لایموت سے آپ کی خیریت و عافیت مطلوب و مقصود ہے اور امید قوی ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ صحافی کو ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے اور ایک بیدار مغز صحافی معاشرے میں بگاڑ کا سبب بننے والے مسائل پر نظر رکھتا ہے، اور بروقت درست نشاندہی کر کے اس کے تدارک کی طرف ارباب اقتدار کی توجہ دلاتا ہے، یقینا آپ نے معاشرے میں بگاڑ کا سبب بننے والے ایک اہم مسئلے کی طرف نشاندہی فرمائی ہے اور اپنی صحافتی ذمہ داری کا حق بہ حسن خوبی ادا کیا ہے، اس پر میں آپ کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ، اور دعا گو ہوں کہ ہمیشہ یوں ہی اپنی ذمہ داریاں ادا فرماتے رہیں۔ برادر عزیز! آپ نے بجا فرمایا کہ ’’حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین قرآنی شخصیات ہیں،تاریخی نہیں‘‘اس وجہ سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو تاریخ کے اوراق کے بجائے قرآن کے تناظر میں دیکھنا چاہیے ۔بڑی عام فہم سی بات ہے کہ نمک کے تولنے کا ترازو الگ ہے،کاٹھ کباڑ کے تولنے کا ترازو الگ ہے اور زیور کے تولنے کا ترازو الگ ہے،میں بھی اس حوالے سے چند باتیں آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گا۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو جانچنے اور پرکھنے کا اولا ً تو مخلوق میں کسی کو حق حاصل ہی نہیں ہے ،چونکہ ان کی تعدیل خودرب العالمین کلام مقدس میں فرما چکے ہیں اور پھر اللہ کے محبوب پیغمبر ﷺکے بے شمار فرامین میں ان کی دیانت و صداقت کا بڑے کھلے الفاظ میں تذکرہ موجود ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی جانب سے کی گئی تصدیق کے بعد اب مخلوق میں کسی اور کی تصدیق کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ہاں البتہ اگر کوئی صحابہ کرامؓ کا تعارف جاننا چاہتا ہے تو اس کے لئے قران کریم کی 1200سے زائد آیات مبارکہ موجود ہیں۔
لفظ صحابہ میں اس کے مفہوم کی وسعت کے اعتبار سے وہ تمام مقدس افراد شامل ہیں کہ جو رسول کریمﷺ کی زندگی میں مسلمان ہوئے اور آپ ﷺ کی صحبت انہیں نصیب ہوئی، اب ان میں پھر دو طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جن کا رسول اللہ ﷺسے صرف ایمان کا رشتہ ہے ۔جیسے حضرت بلال حبشیؓ، حضرت صہیب رومی، حضرت سلمان فارسی(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) ان افراد کو صرف صحابہؓ کہا جاتا ہے اور دوسرے خوش نصیب ترین افراد وہ ہیں جنہیں رشتہ ایمان کے ساتھ ساتھ ’’رشتہ داری‘‘کا شرف بھی حاصل ہے۔ ایمانی رشتے کے اعتبار سے ’’صحابہؓ ‘‘میں یہ تمام افراد شامل ہیں اور یہی رشتہ اصل رشتہ ہے۔ جبکہ بہت سے نام پیش کئے جا سکتے ہیں کہ جنہیں رشتہ داری کا حق تو حاصل تھا، مگر وہ دولت ایمان سے محروم رہے اور یہ محرومی اتنا بڑا نقصان ہے کہ حضور ﷺکے ساتھ رشتہ داری ان کے کسی کام نہیں آئی تو ہم جب لفظ صحابہ استعمال کرتے ہیں تو نبی کریم ﷺکے رشتہ دار بھی اس میں شامل ہیں۔ اغیار عام طور پر یہ تاثر دینے کے تگ و دو میں مصروف ہیں کہ ’’صحابہؓ الگ ہیں اور اہل بیتؓ الگ ہیں‘‘ جو کہ غلط ہے۔(لفظ اہل بیتؓ کا اصل مصداق تو رسول کریم ﷺ کی ازواج مطہرات ہیں اور تب بقی اہل خانہ بھی شامل ہیں۔حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی جماعت کو رسول اللہ ﷺکا ایک معجزہ کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جو کسی زمانے میں ’’وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین‘‘کا مصداق تھے، تزکیہ نبوت کے بعد وہ ’’اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون‘‘کا مصداق بن گئے ، شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ
خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا
جب اغیار صحابہؓ و اہل بیت ؓکے درمیان منافرت کے جھوٹے قصے تاریخ کی پبدبودار کتابوں سے پھیلانے کی سعی نام مشکور میں مشغول و مصروف ہیں تو ہم بھی اس کے تدارک اور روک تھام کے لئے تقریبا ًگزشتہ آٹھ سال سے مدارس عربیہ کی سالانہ تعطیلات میں نو روزہ دورہ تفسیر ایات عظمت صحابہؓ کا انعقاد کر رہے ہیں، جس میں سکول و کالج کے طلباء سمیت عام مسلمان بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں، ہماری اہل سنت مجلس علمی نے قرآن کریم کی ان 1226آیات کا مجموعہ تیار کیا ہے، جن میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی صراحتاً یا اشارتاً تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے۔ان آیات کریمہ کو ماہرین فن اساتذہ کرام پوری تحقیق و تفصیل کے ساتھ طلباء کرام کو پڑھاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایک نیا مجموعہ ان احادیث نبویہ کا بھی جمع ہو چکا ہے، جن میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی مدح و توصیف بیان کی گئی ہے، بہت جلد اسے بھی ہم اس کورس کا حصہ بنائیں گے۔ایک بیدار مغز صحافی ہونے کی حیثیت سے آپ نے جس طرح معاشرے میں فتنے کا سبب بننے والے ٹی وی اینکرز اور یوٹیوبرز کی نشاندہی فرمائی ہے اس پر اپ داد و تحسین کے مستحق ہیں، ارباب اقتدار کو چاہیے ان ناسوروں کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور جو لوگ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی گستاخیوں کے مرتکب ہیں یا سبب بنتے ہیں، انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ’’ناموس صحابہؓ و اہل بیتؓ بل‘‘کو نافذ کیاجائے اور ایسے بدباطن اور مفسدین کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔
والسلام دعا گو و دعا جو
اورنگزیب فاروقی
صدر اہلسنت والجماعت پاکستان

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: علیہم اجمعین کی اہل بیت شامل ہیں کے ساتھ ہیں اور ہیں کہ ہے اور

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے