دونوں ایٹمی دھماکوں میں بچ جانے والا واحد جاپانی شہری
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
تاریخ میں ایک ایسے خوش قسمت جاپانی شہری کا ذکر ملتا ہے جو امریکا کی جانب سے کیے گئے ایٹمی حملوں کے وقت دونوں شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی میں موجود تھا مگر زندہ بچ گیا۔
اس شخص کا نام تھا تسوتومو یاماگوچی۔ تسوتومو 6 اگست 1945 کو ہیروشیما میں موجود تھا۔ شہری Mitsubishi کمپنی میں انجینئر تھا اور ہیروشیما میں بزنس ٹرپ پر آیا ہوا تھا۔ اسی دن امریکا نے پہلا ایٹم بم "Little Boy" ہیروشیما پر گرایا۔
یاماگوچی بم گرنے کے مقام سے تقریباً 3 کلومیٹر دور تھا۔ اسے شدید جھٹکا، جلنے کے زخم، اور اس کی سماعت متاثر ہوئی مگر وہ زندہ بچ گئے۔
7 اگست 1945 کو تسوتومو کی اپنے آبائی شہر ناگاساکی کی واپسی کا دن تھا۔ اگلے دن وہ شدید زخموں کے باوجود ناگاساکی واپس چلا گیا۔ اس نے اپنی کمپنی کو بتایا کہ ہیروشیما میں کیا ہوا مگر کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔
9 اگست 1945 کو ناگاساکی پر امریکا نے دوسرا ایٹم بم "Fat Man" گرایا اور تسوتومو وہاں موجود تھا۔ وہ دفتر میں ایک میٹنگ میں تھا جب دوسرا دھماکہ ہوا۔ اس بار بھی وہ زخمی ہوا لیکن پھر بھی زندہ بچ گیا۔
تسوتومو وہ واحد انسان ہیں جنہیں دونوں ایٹمی حملوں میں "سرکاری طور پر زندہ بچ جانے والا" تسلیم کیا گیا۔ 2009 میں جاپانی حکومت نے انہیں "nijū hibakusha" یعنی (دو بار ایٹمی حملے میں بچنے والا) کا درجہ دیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں جوہری ہتھیاروں کے خلاف مہم بھی چلائی۔
تسوتومو یاماگوچی کا انتقال 4 جنوری 2010 کو ہوا۔ اس وقت ان کی عمر 93 سال تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔